کسٹم بلوچستان کی جانب سے بلوچستان کے عوام پر ظلم کی انتہا ہوچکی ہے۔
تین تین سالوں سے لوگوں کی گاڑیاں پکڑ کر کھڑی کی گئی ہیں، نہ کیسز کا فیصلہ ہورہا ہے نہ ریلیز دی جارہی ہے۔
آج لکپاس کسٹم پر اربوں روپے مالیت کی گاڑیوں کو آگ لگ گئی، مگر افسوس کہ ذمہ دار ادارے صرف تماشائی بنے رہے۔
ان گاڑیوں میں صرف گاڑیاں نہیں تھیں، بلکہ غریب عوام کی محنت، امیدیں اور پورے خاندانوں کا روزگار شامل تھا۔
بہت سی گاڑیاں ایسی بھی تھیں جن پر صرف خوردنی اشیاء جیسے ایرانی بسکٹ، چاکلیٹ اور روزمرہ سامان کے کیسز تھے، مگر آج سب کچھ جل کر خاک ہوگیا۔
اگر وقت پر کیسز نمٹائے جاتے، تو حکومت کو جرمانوں کی مد میں کروڑوں بلکہ اربوں روپے کا فائدہ ہوتا، اور عوام کی گاڑیاں سڑکوں پر چل کر اپنے خاندانوں کا سہارا بنتیں۔
آخر اس نقصان کا ذمہ دار کون ہے؟
عوام کب تک اپنی جمع پونجی کو اس طرح تباہ ہوتے دیکھتے رہیں گے؟
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ:
* تمام زیر التواء کیسز فوری نمٹائے جائیں۔
* متاثرہ افراد کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔
* ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔
* بلوچستان کے عوام کے ساتھ اس ناانصافی کا سلسلہ بند کیا جائے۔
یہ صرف گاڑیوں کا نقصان نہیں،
یہ بلوچستان کے عوام کے مستقبل کو جلانے کے مترادف ہے


