ایران (اولس نیوز ) ایران کا قشم جزیرہ حالیہ کشیدگی کے دوران خلیج میں ایک اہم اسٹریٹجک مرکز کے طور پر سامنے آیا ہے، جہاں زیرِ زمین میزائل تنصیبات اور تاریخی و قدرتی شاہکار ایک ساتھ موجود ہیں۔ یہ جزیرہ اب صرف سیاحت کے لیے نہیں رہا بلکہ خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں کے باعث ایک حساس دفاعی مقام بن چکا ہے۔
قشم جزیرہ خلیج فارس میں آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہے اور جغرافیائی طور پر انتہائی اہم پوزیشن رکھتا ہے۔ یہ جزیرہ ایران کے لیے نہ صرف قدرتی حسن اور تاریخی ورثے کی علامت ہے بلکہ اب ایک مضبوط فوجی مرکز بھی سمجھا جاتا ہے۔
جزیرے کے نیچے قائم زیرِ زمین میزائل شہر اسے ایک دفاعی قلعے کی حیثیت دیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ تنصیبات ایسے حالات کے لیے تیار کی گئی ہیں جب خلیج میں کشیدگی بڑھ جائے اور اہم سمندری راستوں پر کنٹرول درکار ہو۔
قشم جزیرہ تقریباً ایک ہزار چار سو پچتالیس مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور آبنائے ہرمز کے داخلی راستے پر اثر و رسوخ رکھتا ہے، جو خطے کی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ اسی وجہ سے یہ علاقہ عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
حالیہ کشیدگی کے دوران جزیرے کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئیں، جس کے نتیجے میں قریبی دیہات میں پانی اور دیگر سہولیات متاثر ہوئیں۔ اس نے علاقے میں انسانی اور معاشی دباؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قشم جزیرہ ایران کی بحری حکمتِ عملی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور خلیج میں طاقت کے توازن کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی جغرافیائی پوزیشن اسے ایک ایسے پلیٹ فارم میں تبدیل کرتی ہے جہاں سے اہم سمندری راستوں کی نگرانی اور کنٹرول ممکن ہے۔
تاریخی اعتبار سے بھی یہ جزیرہ مختلف سلطنتوں کے لیے اہم رہا ہے۔ اس پر مختلف ادوار میں ترک، پرتگالی اور برطانوی افواج نے اپنے اڈے قائم کیے۔ ساتھ ہی یہ جزیرہ اپنی قدرتی خوبصورتی کے لیے بھی مشہور ہے۔
جزیرے پر واقع وادیٔ ستارگان ایک انوکھا قدرتی منظر پیش کرتی ہے، جہاں چٹانوں کی عجیب و غریب ساختیں صدیوں کے کٹاؤ کا نتیجہ ہیں۔ اسی طرح نمک دان کی غار دنیا کی طویل ترین نمکیاتی غاروں میں شمار ہوتی ہے، جہاں لاکھوں سال پرانے نمکیاتی ڈھانچے موجود ہیں۔ چاہ کوہ کی تنگ و گہری وادیاں قدرتی عجوبہ سمجھی جاتی ہیں، جبکہ مینگروو کے جنگلات اس علاقے کی ماحولیاتی اہمیت کو مزید بڑھاتے ہیں۔
قشم جیوپارک کو عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا جا چکا ہے، جو اس کے قدرتی اور تاریخی ورثے کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
آج قشم جزیرہ خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایران کے لیے ایک کلیدی حیثیت اختیار کر چکا ہے، جہاں قدرتی حسن، تاریخی ورثہ اور جدید فوجی حکمتِ عملی ایک ہی جگہ پر موجود ہیں۔ یہ جزیرہ نہ صرف خطے کی سلامتی بلکہ توانائی کی ترسیل میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔




