بلوچستان میں سرکاری ملازمین کا احتجاج، عوامی خدمات متاثر

بلوچستان میں سرکاری ملازمین کا احتجاج ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے، جس کا براہ راست اثر عوام کی روزمرہ زندگی پر پڑ رہا ہے۔ بلوچستان گرینڈ الائنس نے حکومت کی طرف سے سنجیدہ مذاکرات کی کمی پر افسوس کا اظہار کیا ہے، اور کہا ہے کہ ملازمین کے مسائل کے حل کے لیے ابھی تک کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ اتحاد نے واضح کیا ہے کہ نوٹیفائیڈ کمیٹی کی مشترکہ سفارشات کو حتمی شکل دی جا چکی ہیں، مگر حکومت کی طرف سے ان پر عمل درآمد کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔

بلوچستان کے سرکاری ملازمین نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ ان کے مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں تاکہ عوام کو بنیادی سرکاری خدمات کی فراہمی میں خلل نہ پڑے۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ اگر ان کے مسائل کا حل نہیں نکالا گیا تو احتجاجی مظاہرے مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں، جس سے صوبے میں مزید مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

اس صورتحال کا اثر صرف ملازمین اور حکومت کے تعلقات تک محدود نہیں، بلکہ عوام کو ملنے والی خدمات جیسے کہ صحت، تعلیم، اور دیگر ضروری سرکاری کاموں میں بھی خلل آ رہا ہے، جس سے عوام میں حکومت کے حوالے سے بے چینی پیدا ہو رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں