امریکی محکمہ دفاع کا پرانا نام کیا ہے؟ ٹرمپ کا منصوبہ سامنے آ گیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی محکمہ دفاع کا نام تبدیل کرنے کا عندیہ دے دیا اور کہا ہے کہ اس کا پرانا نام ”محکمہ جنگ“ (Department of War) زیادہ مناسب لگتا تھا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کی انتظامیہ آئندہ چند دنوں میں نام تبدیل کر سکتی ہے، ٹرمپ نے کہا کہ حکام شاید اگلے ایک ہفتے میں پنٹاگون کو اس جارحانہ نام پر واپس لے جائیں گے جو اسے کبھی حاصل تھا۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق صدر نے پیر کی سہ پہر اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہم دفاعی بننا چاہتے ہیں، لیکن اگر ضرورت پڑے تو ہم جارحانہ بھی بننا چاہتے ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ امریکا کو اس کے پرانے نام کے تحت پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کے دوران ناقابل یقین فتوحات حاصل ہوئی تھیں۔

ٹرمپ نے پہلے کہا کہ یہ تبدیلی آئندہ ایک ہفتے یا اس سے کچھ زیادہ وقت میں متوقع ہے، تاہم چند گھنٹوں بعد انھوں نے کہا کہ وہ اس فیصلے کو وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ پر چھوڑ دیں گے، ہم اسے چند بار اور آزمائیں گے، اور اگر سب کو یہ پسند آیا، تو ہم یہ تبدیلی کر دیں گے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 1947 میں امریکی محکمہ جنگ کا نام تبدیل کر کے محکمہ دفاع رکھا گیا تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ کو محکمہ دفاع کے پرانے نام کی بحالی کے لیے کانگریس کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اس لیے ٹرمپ انتظامیہ کانگریس کی بجائے متبادل طریقوں پر غور کر رہی ہے۔

جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا کانگریس کو اس پرانے نام کی بحالی کی منظوری دینی ہوگی، کیوں کہ قانون سازوں نے ہی اس کا نام پہلے تبدیل کیا تھا، تو ٹرمپ نے کہا ’’مجھے ایسا نہیں لگتا، ہم بس یہ کریں گے، اگر ضرورت ہوئی تو مجھے یقین ہے کہ کانگریس ساتھ دے گی لیکن مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں اس کی بھی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں