کوئٹہ (ویب ڈیسک) بلوچستان میں امراضِ قلب کے پہلے جدید اسپتال کی تعمیر آخری مراحل میں پہنچ گئی ہے، جبکہ پاکستان کے معروف ماہرِ امراضِ قلب ڈاکٹر جلال خان کو بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیز (BICVD) کا عبوری سربراہ مقرر کردیا گیا ہے۔ 150 بستروں پر مشتمل اسپتال کا افتتاح رواں ماہ متوقع ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیرِ صدارت بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا پہلا اجلاس منعقد ہوا، جس میں اسپتال کی تکمیل، طبی سہولیات کی فراہمی اور انتظامی امور پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں اسپتال سے منسلک تین سیٹلائٹ مراکز بھی فعال کیے جائیں گے، جبکہ دوسرے مرحلے میں ان مراکز کا دائرہ کار تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز تک بڑھایا جائے گا۔ اس کے علاوہ صوبے کے تمام اضلاع میں چیسٹ پین مینجمنٹ سینٹرز قائم کیے جائیں گے۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بی آئی سی وی ڈی کے قیام سے صوبے میں امراضِ قلب کے علاج کی جدید سہولیات مقامی سطح پر دستیاب ہوں گی اور مریضوں کو علاج کے لیے دیگر صوبوں کا سفر نہیں کرنا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں جدید طبی اداروں کا قیام حکومت بلوچستان کی ترجیحات میں شامل ہے اور عوام کو معیاری علاج کی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ امراضِ قلب کے مریضوں کے لیے بروقت تشخیص، علاج اور ہنگامی طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ بی آئی سی وی ڈی کو جدید طبی آلات، مستند ماہرین اور مؤثر انتظامی نظام کے ذریعے فعال بنایا جائے گا۔ صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کا بنیادی مقصد عوام کو ریلیف فراہم کرنا اور علاج کے دوران درپیش مشکلات کم کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ طبی سہولیات کی فراہمی میں کوئٹہ کے ساتھ دور دراز اضلاع کو بھی یکساں اہمیت دی جائے گی۔




