کراچی میں 350 تک اسکیمنگ کال سینٹرز سرگرم، این سی سی آئی اے کا بڑا انکشاف
ایڈیشنل ڈائریکٹر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ ملک میں سائبر جرائم کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ روایتی جرائم پیشہ عناصر بھی اب جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لے کر اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق شہزاد اکبر نے بتایا کہ سائبر جرائم میں ملوث افراد اپنی شناخت چھپانے اور جعلی ناموں سے لوگوں کو دھوکا دینے کے لیے مختلف طریقے استعمال کرتے ہیں۔ جعلی شناخت کے ذریعے شہریوں کے بینک اکاؤنٹس سے رقم نکالنا غیر قانونی عمل ہے۔ ان کے مطابق کراچی میں تقریباً 300 سے 350 اسکیمنگ کال سینٹرز کام کر رہے ہیں، تاہم ادارے نے ایسے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تین بڑی کمپنیوں میں سے ایک کے خلاف کارروائی کی جا چکی ہے، جس کے خلاف ماضی میں بھی ایکشن لیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے صرف کمپنی مالکان کے خلاف کارروائی کرنے کا کہا جاتا تھا، تاہم حالیہ کارروائی کے دوران 200 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان میں ایسے بچے بھی شامل ہیں جن کی عمر تعلیم حاصل کرنے کی ہے لیکن ان سے کام لیا جا رہا تھا۔ شہزاد اکبر کے مطابق بچوں کے والدین کو بھی دفعہ 109 کے تحت قانونی کارروائی کے دائرے میں لایا جائے گا۔
ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے نے بتایا کہ گرفتار افراد میں تقریباً 100 خواتین اور 42 نوعمر لڑکے اور لڑکیاں بھی شامل ہیں۔ پورے نیٹ ورک کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، جبکہ مقامی شہریوں اور ریٹائرڈ افراد کو بھی مختلف طریقوں سے مالی دھوکا دہی کا نشانہ بنایا گیا۔
شہزاد اکبر کے مطابق کارروائی کے دوران 329 لیپ ٹاپ بھی تحویل میں لیے گئے، جن میں جعلی شناختوں سے بنائی گئی آئی ڈیز موجود تھیں۔ ان اکاؤنٹس میں کریڈٹ کارڈز سے متعلق معلومات بھی محفوظ تھیں، جنہیں استعمال کرتے ہوئے شہریوں کو مختلف پرکشش آفرز اور دیگر حربوں کے ذریعے دھوکا دیا جاتا اور ان کے اکاؤنٹس سے رقم نکال لی جاتی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ جامعات میں منشیات کی خرید و فروخت کے نیٹ ورکس کے خلاف بھی کارروائیاں جاری ہیں۔ منشیات کی آن لائن ترسیل میں ملوث عناصر کی نشاندہی کی جا رہی ہے اور اس سلسلے میں مختلف روابط کو بھی پکڑا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مختلف اداروں کے باہر موجود ایجنٹ بھی شہریوں کے ساتھ فراڈ میں ملوث ہوتے ہیں۔ ایسے افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی اور انہیں گرفتار کرکے قانونی تقاضوں کے مطابق چالان کیا جائے گا۔




