خیبر پختونخوا میں تیسری بار گورنر راج، ماضی میں کیا ہوا تھا؟

خیبر پختونخوا میں تیسری بار گورنر راج، ماضی میں کیا ہوا تھا؟

پاکستان میں گورنر راج کی تاریخ: قیامِ پاکستان سے خیبر پختونخوا تک، کب کب صوبائی حکومتیں ختم کی گئیں؟

کوئٹہ ( اولس نیوز کوئٹہ): خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ نے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک بار پھر اس اہم سوال کو زندہ کر دیا ہے کہ ملک میں اس سے پہلے کتنی مرتبہ گورنر راج نافذ کیا گیا، کن حالات میں منتخب صوبائی حکومتوں کو ہٹایا گیا اور ان اقدامات کے بعد صوبوں کی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوئے۔

پاکستان میں گورنر راج کی تاریخ قیامِ پاکستان کے چند ہی برس بعد شروع ہو گئی تھی۔ مختلف ادوار میں سیاسی اختلافات، انتظامی بحران، بدعنوانی کے الزامات اور امن و امان کی صورتحال کو صوبائی حکومتوں کے خلاف اقدامات کی وجوہات کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا، جسے ماضی میں صوبہ سرحد کہا جاتا تھا، مختلف ادوار میں گورنر راج یا اس نوعیت کے غیر معمولی انتظامی اقدامات کا سامنا کر چکے ہیں۔

پاکستان میں پہلی مرتبہ گورنر راج کب نافذ ہوا؟

پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ جنوری 1949 میں مغربی پنجاب، موجودہ پنجاب، میں گورنر راج نافذ کیا گیا۔ اس وقت وزیراعظم لیاقت علی خان اور وزیراعلیٰ نواب افتخار حسین خان ممدوٹ کے درمیان صوبائی حکومت کی اکثریت کے معاملے پر اختلافات پیدا ہوئے۔ اس کے بعد ممدوٹ حکومت کو برطرف کر کے صوبائی اسمبلی تحلیل کر دی گئی۔ پنجاب میں یہ انتظام اپریل 1951 تک جاری رہا۔

اس کے بعد دسمبر 1951 میں سندھ میں گورنر راج نافذ کیا گیا، جب وزیراعلیٰ محمد ایوب کھوڑو کو بدعنوانی اور انتظامی کارکردگی سے متعلق الزامات کے تناظر میں عہدے سے ہٹایا گیا۔ گورنر میاں امین الدین نے صوبے کے انتظامی معاملات سنبھالے اور یہ دور مئی 1953 میں ختم ہوا۔ یوں ملک کے ابتدائی برسوں میں ہی وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات اور سیاسی اعتماد کا تنازع نمایاں ہو گیا تھا۔

بلوچستان میں گورنر راج: 1973 کا اہم سیاسی موڑ

فروری 1973 میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے بلوچستان کے وزیراعلیٰ سردار عطاء اللہ مینگل کی حکومت برطرف کر دی اور گورنر میر غوث بخش بزنجو کو بھی عہدے سے ہٹا دیا۔ اس اقدام کے لیے صوبے میں بدامنی اور اسلام آباد میں عراقی سفارت خانے سے اسلحے کی مبینہ برآمدگی سمیت مختلف معاملات کا حوالہ دیا گیا۔ نواب اکبر خان بگٹی کو بلوچستان کا گورنر مقرر کیا گیا اور صوبے میں براہِ راست حکومتی انتظام نافذ ہوا۔ بعد ازاں جام غلام قادر خان کی سربراہی میں نئی صوبائی حکومت قائم ہوئی۔

خیبر پختونخوا میں پہلے بھی گورنر راج نافذ ہو چکا ہے

خیبر پختونخوا کی تاریخ میں موجودہ اقدام سے پہلے بھی گورنر راج کے دو اہم ادوار گزر چکے ہیں۔ پہلا دور 16 فروری 1975 سے 3 مئی 1975 تک جاری رہا۔ اس وقت وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے صوبے کے انتظامی اختیارات گورنر کے حوالے کیے۔ اس دور کے پس منظر میں حیات محمد خان شیرپاؤ کا قتل، نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی اور صوبے میں سیاسی کشیدگی جیسے واقعات شامل تھے۔ وزیراعلیٰ سردار عنایت اللہ خان گنڈاپور کی حکومت ختم ہوئی اور تقریباً 76 روز بعد 3 مئی 1975 کو نصراللہ خان خٹک نے وزیراعلیٰ کا منصب سنبھالا۔

خیبر پختونخوا میں دوسری مرتبہ 25 فروری 1994 کو گورنر راج نافذ کیا گیا۔ اس وقت وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی حکومت نے وزیراعلیٰ پیر صابر شاہ کی سربراہی میں قائم صوبائی حکومت کو برطرف کر دیا۔ گورنر ریٹائرڈ میجر جنرل خورشید علی خان نے انتظامی امور سنبھالے۔ یہ اقدام اس وقت کی ملکی سیاست کے متنازع واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ 24 اپریل 1994 کو گورنر راج ختم ہوا اور آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے وزیراعلیٰ کا حلف اٹھایا۔

2009 میں پنجاب اور 2013 میں بلوچستان میں گورنر راج

فروری 2009 میں صدر آصف علی زرداری کے دورِ حکومت میں پنجاب میں گورنر راج نافذ کیا گیا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے نواز شریف اور شہباز شریف کی نااہلی کے فیصلے کے بعد پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے مستقبل سے متعلق بحران پیدا ہوا۔ گورنر سلمان تاثیر کو صوبائی انتظامی امور سونپے گئے، جبکہ وزیراعلیٰ شہباز شریف اور ان کی کابینہ کو عہدے چھوڑنے پڑے۔ یہ اقدام تقریباً ایک ماہ بعد ختم کر دیا گیا۔

جنوری 2013 میں بلوچستان میں بھی گورنر راج نافذ کیا گیا۔ کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے افراد کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کے بعد احتجاج اور دھرنوں نے ملک بھر میں توجہ حاصل کی۔ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی حکومت نے وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی کی صوبائی حکومت ختم کر دی اور گورنر نواب ذوالفقار مگسی کو صوبے کے انتظامی امور سونپ دیے۔ یہ اقدام بھی بلوچستان کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم واقعہ سمجھا جاتا ہے۔

اکتوبر 2026: خیبر پختونخوا میں ایک بار پھر گورنر راج

پاکستان کی اس تاریخی ترتیب میں اکتوبر 2026 کا دور بھی اہمیت اختیار کر گیا، جب خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کا اعلان سامنے آیا۔ وفاقی حکومت نے صوبے میں بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی اور انسدادِ دہشت گردی کے معاملات پر صوبائی حکومت کی کارکردگی اور تعاون کے حوالے سے تحفظات کو اس اقدام کی وجوہات قرار دیا۔

اس معاملے میں آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کا حوالہ دیا گیا۔ وفاقی حکومت کے مطابق صوبے کے انتظامی معاملات گورنر کے تحت چلانے اور مختلف اضلاع میں انتظامی امور کی نگرانی کے لیے اقدامات کیے گئے۔ تاہم اس فیصلے کے قانونی جواز، مدت اور انتظامی طریقۂ کار کی تفصیلات کو سرکاری نوٹیفکیشن اور متعلقہ آئینی دستاویزات کی روشنی میں دیکھنا ضروری ہے۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے اس اقدام پر اعتراض کرتے ہوئے اسے جمہوری مینڈیٹ کے خلاف قرار دیا اور مؤقف اختیار کیا کہ وفاقی حکومت سیاسی اختلافات کی بنیاد پر صوبائی حکومت کو ہٹا رہی ہے۔ یوں خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا معاملہ صرف انتظامی فیصلے تک محدود نہیں رہا بلکہ وفاق اور صوبے کے درمیان سیاسی کشیدگی کا نیا باب بھی بن گیا ہے۔

آئینِ پاکستان میں گورنر راج کی کیا حیثیت ہے؟

آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 234 اس صورت میں اقدامات کی اجازت دیتا ہے جب صدر اس نتیجے پر پہنچیں کہ کسی صوبے میں حکومت آئین کے مطابق نہیں چلائی جا سکتی۔ اس کے تحت صدر صوبائی حکومت کے بعض یا تمام انتظامی اختیارات اپنے پاس لے سکتے ہیں یا گورنر کو یہ اختیارات استعمال کرنے کی ہدایت دے سکتے ہیں۔ آئینی طریقۂ کار کے مطابق اس اعلان کو پارلیمان کے سامنے پیش کرنا ضروری ہے اور اس کی مدت میں توسیع کے لیے منظوری درکار ہوتی ہے۔ آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کی مدت اور توسیع آئین میں درج شرائط کے تابع ہوتی ہے۔

یہ فرق بھی اہم ہے کہ گورنر راج، ایمرجنسی اور مارشل لا ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ آرٹیکل 232 ہنگامی حالت سے متعلق ہے، جبکہ آرٹیکل 234 صوبے میں آئینی نظام کی ناکامی کی صورت میں انتظامی اختیارات کے استعمال سے متعلق ہے۔ مارشل لا پاکستان کی تاریخ میں ایک الگ نوعیت کا غیر معمولی سیاسی و فوجی اقدام رہا ہے۔

پاکستان کی تاریخ سے ظاہر ہوتا ہے کہ گورنر راج مختلف سیاسی اور انتظامی بحرانوں کے دوران نافذ کیا جاتا رہا ہے، لیکن ہر واقعے کے حالات اور نتائج ایک جیسے نہیں تھے۔ اب خیبر پختونخوا میں تازہ اقدام کے بعد اہم سوال یہ ہے کہ یہ انتظام کتنی مدت تک برقرار رہے گا، صوبائی نظامِ حکومت کس طرح چلایا جائے گا اور منتخب نمائندوں کو اختیارات کب واپس ملیں گے۔ ان سوالات کے جوابات ہی اس فیصلے کے مستقبل کے سیاسی اور آئینی اثرات کا تعین کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں