بلوچستان میں ڈھائی سالہ پاور شیئرنگ معاہدہ ختم؟ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی بچ گئے،

کوئٹہ( اولس نیوز )  بلوچستان میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان مبینہ ڈھائی سالہ پاور شیئرنگ معاہدے کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اپنی وزارتِ اعلیٰ برقرار رکھنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت میں مسلم لیگ (ن) کی شمولیت اور ممکنہ ردوبدل کے حوالے سے دونوں جماعتوں کے درمیان مشاورت جاری ہے، جس میں مسلم لیگ (ن) کو حکومت میں شراکت کے بدلے 7 اہم وزارتیں اور 3 مشیروں کے عہدے دینے کی تجویز زیرِ غور ہے۔

ذرائع کے مطابق وزارتوں اور مشیروں کے عہدوں سے متعلق معاملات پر حتمی فیصلہ دونوں جماعتوں کی اعلیٰ سیاسی قیادت کی منظوری کے بعد کیا جائے گا، جبکہ حکومت میں ممکنہ تبدیلیوں کے خدوخال بھی مشاورت مکمل ہونے کے بعد سامنے آنے کا امکان ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی حالیہ گفتگو میں کہہ چکے ہیں کہ انہیں بلوچستان میں کسی اڑھائی اڑھائی سالہ حکومتی معاہدے کا علم نہیں، جبکہ حکومت میں تبدیلی سے متعلق فیصلہ سیاسی قیادت کی جانب سے کیا جانا ہے۔

بلوچستان میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان مبینہ پاور شیئرنگ فارمولے کے حوالے سے سیاسی حلقوں میں پہلے ہی مختلف قیاس آرائیاں سامنے آتی رہی ہیں، تاہم موجودہ پیش رفت میں وزارتوں اور مشیروں کی تعداد سے متعلق معلومات فی الحال ذرائع کے دعووں پر مبنی ہیں اور ان کی سرکاری طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں