خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں تاخیر پر الیکشن کمیشن برہم، وزیراعلیٰ کو طلب کرنے کا عندیہ

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبرپختونخوا حکومت کو بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں تاخیر پر سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات ہر صورت کرانا ہوں گے، بصورت دیگر کمیشن اپنے آئینی اختیارات استعمال کرے گا۔

خیبرپختونخوا  (اولس نیوز کوئٹہ ) خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت ممبر سندھ نثار درانی کی سربراہی میں چار رکنی الیکشن کمیشن نے کی۔ سماعت کے دوران سپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ صوبے کے سات اضلاع میں حلقہ بندیاں تعطل کا شکار ہیں، جبکہ صوبائی حکومت پورے صوبے میں ایک ہی وقت میں بلدیاتی انتخابات کرانا چاہتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سماعت میں چیف سیکرٹری نے تین ہفتوں کی مہلت مانگی تھی، جس کے بعد 31 اگست کو صوبائی کابینہ کی کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ صوبائی حکومت دیگر صوبوں کے بلدیاتی نظام کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔ سماعت کے دوران ممبر بلوچستان نے ریمارکس دیے کہ خیبرپختونخوا حکومت انتخابات کے معاملے میں تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے۔ ممبر خیبرپختونخوا نے خبردار کیا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو الیکشن کمیشن کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو طلب کرنا پڑ سکتا ہے۔ ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات تو ہر صورت کرانے ہوں گے اور الیکشن کمیشن کے پاس اس مقصد کے لیے متعدد آئینی راستے موجود ہیں۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے بتایا کہ صوبائی کابینہ کی کمیٹی بلدیاتی قانون میں مجوزہ ترامیم پر غور کر رہی ہے۔ اس پر ممبر خیبرپختونخوا نے نشاندہی کی کہ اگر قانون میں تبدیلی کی گئی تو تمام حلقہ بندیاں دوبارہ کرنا پڑیں گی۔ سپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ جیسے ہی صوبائی حکومت حتمی فیصلہ کرے گی، الیکشن کمیشن پورے صوبے میں ایک ساتھ بلدیاتی انتخابات کرانے کے لیے تیار ہے۔ بعد ازاں الیکشن کمیشن نے خیبرپختونخوا حکومت کو قانون سازی مکمل کرنے کے لیے مزید تین ہفتوں کی مہلت دیتے ہوئے کیس کی سماعت 29 ستمبر تک ملتوی کر دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں