امداد چوک پر 40 کلو سے زائد چاندی برآمد، 20 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی چاندی کہاں گئی؟

کوئٹہ( اولس نیوز)  امداد چوک پر ایف سی چیک پوسٹ کے قریب رکشے سے مبینہ طور پر 40 کلوگرام سے زائد چاندی کی برآمدگی کے معاملے نے کئی اہم سوالات کو جنم دے دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پولیس اہلکاروں نے رکشے میں سوار وحید نامی شخص کو حراست میں لے کر اس کے قبضے سے 40 کلوگرام سے زائد چاندی برآمد کی۔ تاہم یہ بھی الزام سامنے آیا ہے کہ برآمد شدہ چاندی میں سے کچھ مقدار موقع پر ہی مبینہ طور پر الگ کر لی گئی، جبکہ باقی چاندی تھانے منتقل کی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بعد ازاں پولیس اہلکاروں کے درمیان مبینہ اختلافات پیدا ہوئے، جس کے بعد ان کے پاس موجود چاندی بھی واپس لے لی گئی۔

ذرائع کے مطابق برآمدگی کے تقریباً تین روز بعد کسٹمز حکام کو تھانے بلا کر چاندی ان کے حوالے کی گئی، تاہم کسٹمز کو صرف 35 کلوگرام چاندی دی گئی۔

اس صورتحال نے کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اگر ابتدائی برآمدگی 40 کلوگرام سے زائد تھی تو باقی تقریباً 5 کلوگرام چاندی کہاں گئی؟ ذرائع کے مطابق اس چاندی کی مالیت 20 لاکھ روپے سے زائد بنتی ہے۔

یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا ایس ایچ او سول لائنز اور متعلقہ پولیس افسران کو برآمد شدہ اور کسٹمز کے حوالے کیے گئے مال کی مقدار میں فرق کا علم تھا؟ اگر فرق موجود تھا تو اس کی وجہ کیا تھی، اور اگر کسی اہلکار کی غفلت یا مبینہ بے ضابطگی سامنے آئی تو اس کے خلاف کیا کارروائی کی گئی؟

عوامی حلقے آئی جی پولیس بلوچستان اور ڈی آئی جی کوئٹہ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کر کے حقائق سامنے لائے جائیں، تاکہ اگر کسی قسم کی غفلت یا بے ضابطگی ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں