اصغر اچکزئی کا بڑا اعلان، حکومت سے مذاکرات ناکام، احتجاج مزید تیز کرنے کا عندیہ

کوئٹہ ( اولس نیوز ) دھرنا کمیٹی اور حکومتی وفد کے درمیان جاری مذاکرات ایک بار پھر کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے، جس کے بعد دھرنا کمیٹی کے رہنما اصغر اچکزئی نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ مذاکرات پہلے روز پیش کیے گئے اصل مطالبات پر ہی ہوں گے اور وہ بھی “حکومت کے اصل مالکان” سے کیے جائیں گے۔

دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے اصغر اچکزئی نے کہا کہ حکومتی وفد اور دھرنا کمیٹی کے درمیان ایک ڈرافٹ پر اتفاق ہو گیا تھا، تاہم اس ڈرافٹ کو مشاورت کے لیے ایک بااختیار شخصیت کے پاس بھیجا گیا، جہاں سے مزید مشاورت کے بعد حکومت نے پہلے سے طے شدہ مسودے کے بجائے دو مرتبہ مکمل طور پر تبدیل شدہ ڈرافٹ پیش کیا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومتی کمیٹی گزشتہ دو روز سے مذاکرات کو سبوتاژ کر رہی تھی، جس کے باعث دھرنا کمیٹی نے بدھ کے روز بطور احتجاج مذاکرات میں حصہ نہیں لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے بار بار کیے گئے وعدوں اور بعد ازاں مؤقف تبدیل کرنے کے باعث لواحقین اور دھرنا کمیٹی نے مشترکہ مشاورت کی۔

اصغر اچکزئی کے مطابق مشاورت کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ اب پہلے سے طے شدہ ڈرافٹ پر بھی بات نہیں ہوگی، بلکہ مذاکرات صرف پہلے روز پیش کیے گئے اصل مطالبات کی بنیاد پر کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپنے “اصل مالکان” کو سامنے لائے تاکہ ان سے کھل کر بات کی جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ دھرنا بدستور جاری رہے گا جبکہ آج جمعہ کے روز صوبہ بھر میں ہڑتال کی جائے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ احتجاج کے اگلے مرحلے کا اعلان بھی آج جمعہ کو دھرنا کمیٹی اور لواحقین کی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں