کوئٹہ (اولس نیوز ) وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی بغیر بلٹ پروف گاڑی سڑک کے راستے زیارت پہنچ گئے۔ بقول وزیر اعلی کے میں بغیر بلٹ پروف گاڑی سڑک کے راستے جارہا ہوں وہ ہاں پر پولیس اور عوام کی لاشیں اپنے پیاروں نے زیارت کراس پر رکھ کر احتاج کررہاہے اور وزیر اعلی احتجاج والوں کی بجائے زیات کی سیر کرانے گئے ہیں اور دوسری طرف پوار بلوچستان پاکستان سے مقطع ہواہے ہے اور کوئٹہ میں پچھلے دو دن سے کلی بابریمیں شہید اور لاپتہ ہونے والئے پیاروں کو انصاف دلانے کوئٹہ میں بھیٹے ہوئے۔
اب اصل بات یے ہیئں کے “تین سو مسلح افراد کلی بابری میں آئے، پوری کلی کو یرغمال بنایا، جس کے بعد قبائل نے اپنے دفاع میں مقابلہ شروع کیا۔”
کیا یے حکومت کی رٹ اتنا کمزرو ہے کہ اربوں روپے سکورٹی کی مد میں لینے والے اج خاموش ہے۔
ایک رپورٹ کی مطابق کوئٹہ (زیبائے پاکستان) وزیراعلی سرفراز بگٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس اسپیس میں مختلف سوالات کے جوابات میں کہا ہے کہ تھری جی اور فور جی سروسز دہشت گرد کارروائیوں میں استعمال کرتے ہیں، حکومت بلوچستان کے ہر گاوں، سکول اور اسپتال میں فائبر کیبل کے ذریعے انٹرنیٹ سروس فراہم کریں گے۔ بلوچستان کے مسئلے کو گٹر کے ڈھکن کی طرح سب نے بند کردیا تھا، ہم نے ڈھکن کھولنے کی کوشش کی، شروع میں بدبو ضرور ہوگی لیکن آخر میں وہ بھی ختم ہو جائے گی۔ بلوچ کو لاحاصل جنگ میں دھکیلا گیا ہے۔ چاکر کی بہن نے کوئی جنگ نہیں لڑی تھی، وہ صرف اس لشکر کے ساتھ تھی۔ شدت پسند عناصر خواتین کو بلیک میل، ٹارچر اور پھر خودکش حملوں کیلئے تیار کرتے ہیں۔ یہ جنگ نہیں جیتی جاسکتی۔ مذاکرات پاکستان توڑنے کے بنیاد پر ہوں گے تو یہ ممکن نہیں۔ ہر شورش کا حل میدان جنگ ہوتا ہے، جب کوئی جیتے یا ہار جائے تو پھر مذاکرات یا مسئلے پر بات چیت ہوتی ہے، اور بلوچستان میں میدان جنگ پاکستان جیتے گا۔ پہاڑ میں موجود لوگوں کی تعداد سات اور آٹھ ہزار سے زیادہ نہیں ہے۔ میں نے ایک سروے کروایا ہے کہ بارہ فیصد لوگ ایسے ہیں جو ان کے سوفٹ پیسز ہیں۔
دہشتگردوں کی تعداد سات آٹھ ہزار سے زیادہ نہیں، بارہ فیصد لوگ ان کے سوفٹ چہرے ہیں، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی۔




