بلوچستان کے ضلع زیارت کے علاقے کچھ مانگی فیز تھری میں پولیس چوکی پر دہشت گردوں کے حملے کے نتیجے میں کم از کم 9 پولیس اہلکار شہید ہو گئے ہیں، جبکہ حکام کے مطابق 5 اہلکار تاحال لاپتا ہیں۔
واقعے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے اور سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق حملہ گزشتہ رات اس وقت شروع ہوا جب دہشت گردوں نے پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔ اس کے بعد رات بھر وقفے وقفے سے پولیس اور حملہ آوروں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔
ایس پی زیارت عبدالقدوس کے مطابق شہداء میں ایس ایچ او مانگی محمد حسین اور ایس ایچ او کواس صحبت خان بھی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ دیگر اہلکار بھی ڈیوٹی کے دوران جان کی بازی ہار گئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تمام 9 شہداء کی لاشیں ڈی ایچ کیو اسپتال زیارت منتقل کر دی گئی ہیں۔
ڈپٹی کمشنر زیارت نے تصدیق کی ہے کہ مقابلے کے بعد 5 پولیس اہلکار لاپتا ہیں۔
پولیس اور سیکیورٹی فورسز ان کی تلاش اور علاقے کی کلیئرنس کے لیے سرچ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔
واقعے کے بعد علاقے میں اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ مزید کسی ممکنہ حملے کا خطرہ روکا جا سکے۔
دوسری جانب مقامی ذرائع اور بعض رہائشیوں کا دعویٰ ہے کہ حملے کے دوران 15 پولیس اہلکاروں کو اسلحہ ختم ہونے اور بروقت کمک نہ پہنچنے کے باعث دہشت گرد اغوا کرکے بعد میں قتل کر گئے۔
تاہم اس دعوے کی تاحال کسی سرکاری ذریعے نے تصدیق نہیں کی۔ حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، اس لیے اس اطلاع کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
واقعے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ مقامی شہریوں نے خانوزئی کراس کے مقام پر احتجاج کرتے ہوئے قومی شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا، جس کے باعث دونوں جانب گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
مظاہرین واقعے کی شفاف تحقیقات، لاپتا اہلکاروں کی بازیابی اور علاقے میں مؤثر سیکیورٹی اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شہید اہلکاروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور حملہ آوروں کی تلاش کے لیے آپریشن جاری ہے۔




