صوبائی وزیرِ صحت تمام وزارتی اختیارات اور مراعات سے مستفید، وزیرِ صحت کے کزن نے وزیراعلیٰ بلوچستان کے خلاف بلوچستان ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی

کوئٹہ ( اولس نیوز ) ایک طرف صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ تمام وزارتی اختیارات، مراعات اور حیثیت سے مستفید ہو رہے ہیں، جبکہ محکمہ صحت کی انتظامیہ، اندرونی امور اور تقریباً 13 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں پر اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔

دوسری جانب وزیرِ صحت کے کزن فیصل خان کاکڑ نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے خلاف بلوچستان ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ وزیراعلیٰ اساتذہ کی بھرتیوں کے اسکینڈل کی انکوائری میں انہیں ذاتی طور پر نشانہ بنا رہے ہیں۔

یہ درخواست اس وقت دائر کی گئی جب انکوائری مکمل ہو چکی تھی اور مجاز اتھارٹی سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی اور سی ٹی ایس پی (CTSP) کے مالک کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی سفارشات منظور کر چکی تھی۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو سی ٹی ایس پی اور اس کے مالک کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے سے روکا جائے۔

مزید مطالبہ کیا گیا کہ درخواست گزار فیصل خان کاکڑ کے خلاف کسی بھی قسم کی منفی یا جبری کارروائی نہ کی جائے۔

درخواست میں یہ بھی الزام لگایا گیا کہ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے وائس چانسلر پر دباؤ ڈالا کہ بھرتیوں کے عمل میں ملوث افراد کے خلاف ذمہ داری کا تعین کیا جائے۔

درخواست کے مطابق وزیراعلیٰ کی مبینہ ذاتی رنجش اور اثر و رسوخ کے باعث متعلقہ حکام نے 3 جنوری 2026 کو بار بار طلبی کے نوٹس جاری کیے۔

دوسری جانب انکوائری سے متعلق مؤقف یہ ہے کہ تحقیقات شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ تھیں، جو شدید سیاسی دباؤ کے باوجود مقررہ وقت میں مکمل کی گئیں۔

انکوائری کے حامیوں کے مطابق رپورٹ قانون کے مطابق منظور ہوئی، جس کے بعد یونیورسٹی اور سی ٹی ایس پی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی کارروائی شروع کر دی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں