اسمبلی میں شور مدارس بل کا، مگر نشانہ ترقیاتی بجٹ
بلوچستان کی سیاست ایک بار پھر ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں بحث کچھ اور ہے اور دلچسپی کہیں اور اسمبلی میں مدارس بل پر لمبی تقاریر ہو رہی ہیں
مذہب اصلاحات اور قانون سازی کے خوبصورت الفاظ گونج رہے ہیں مگر ناقدین کا کہنا ہے کہ اصل کہانی ان الفاظ کے پیچھے چھپی ہے وہ کہانی جس کا تعلق سیدھا سیدھا اربوں کے PSDP فنڈز سے ہے۔
سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ کیا واقعی مدارس بل اتنا ہی ہنگامی مسئلہ ہے جتنا اسے بنایا جا رہا ہے یا یہ محض ایک ایسا پردہ ہے جس کے پیچھے ترقیاتی بجٹ کی بندر بانٹ خاموشی سے جاری ہے؟ کیونکہ بلوچستان میں
ترقی اکثر کاغذوں میں زیادہ تیز دوڑتی ہے، زمین پر کم۔
ادھر عوام کو ایک نیا موضوع دے دیا گیا ہے بحث کریں تقسیم ہوں رائے دیں مگر اس دوران اربوں روپے کے منصوبے کس رفتار سے منظور منتقل یا ایڈجسٹ ہو رہے ہیں اس پر غیر معمولی خاموشی کیوں ہے؟ کیا یہ محض اتفاق ہے یا ایک آزمودہ سیاسی فارمولہ؟
اسی بیچ PDMA بھی سوالات کی زد میں ہے امدادی اشیاء کی تقسیم شفافیت کے دعوے اور پچھلے سال چاول و چھولے کے نام پر تقریباً 11 ارب روپے کا قصہ یہ سب ابھی تک مکمل طور پر صاف نہیں ہو سکا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جب سوالات اٹھتے ہیں تو جواب دینے کے بجائے ایک نیا ایشو لانچ کر دیا جاتا ہے تاکہ پرانا معاملہ خود ہی دفن ہو جائے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر بار یہی کہا جاتا ہے کہ سب کچھ عوامی فلاح کے لیے ہو رہا ہے اور شفافیت اپنی جگہ موجود ہے۔ مگر پھر سوال یہ بنتا ہے کہ اگر سب کچھ واقعی صاف ہے تو اتنی پردہ داری کیوں؟ حساب کتاب سامنے لانے میں ہچکچاہٹ کیوں؟
یہ معاملہ اب صرف ایک بل یا ایک ادارے تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک پورے طرزِ حکمرانی پر سوال کھڑا کر رہا ہےکیا یہاں فیصلے واقعی عوام کے لیے ہو رہے ہیں، یا عوام کو صرف کہانی سنانے کے لیے رکھا گیا ہے؟
آخر میں بات وہی آ کر رکتی ہے جہاں ہمیشہ رکتی ہے بلوچستان کے عوام کے پاس شور سننے کے علاوہ کیا واقعی کچھ دیکھنے کو بھی ہے یا ہر بار کی طرح اس بار بھی اصل کھیل پسِ پردہ ہی مکمل ہو جائے گا؟




