پاکستان (اولس نیوز ) پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اعلان کیا ہے کہ امریکا ایران مذاکرات میں شرکت کے لیے اسلام آباد آنے والے وفود کو ویزہ آن ارائیول مہیا کیا جائے گا اور مذاکرات کی کوریج کے لیے آنے والے صحافیوں کو یہ سہولت میسر ہوگی۔ امریکی اور ایرانی اعلیٰ حکام آج اسلام آباد میں ہونے والے اہم مذاکرات کے لیے پہنچ رہے ہیں، جہاں پاکستان کی میزبانی میں دونوں ممالک ایک ممکنہ امن معاہدے کی جانب پیش رفت کی کوشش کریں گے۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ پاکستان اسلام آباد ٹاکس میں کے لیے دیگر ممالک کے صحافیوں سمیت تمام وفود کا خیرمقدم کرتا ہے۔ پاکستان میں امیگریشن حکام انہیں آمد پر ویزا جاری کریں گے۔ تمام ایئرلائنز مذاکرات کے شرکاء کوبورڈنگ کی اجازت دینے کی ہدایت کردی گئی ہے۔
امریکی انتظامیہ کے مطابق مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے۔ ان کے ساتھ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر بھی شامل ہوں گے۔
دوسری جانب ایران کی نمائندگی کے لیے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں وفد شریک ہوگا۔ تاہم ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کسی سینئر نمائندے کی شرکت کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
پاکستانی حکام کے مطابق آخری وقت تک وفود کی آمد اور حتمی فہرست میں تبدیلی کا امکان موجود ہے۔
یہ مذاکرات اسلام آباد کے معروف سرینا ہوٹل میں ہوں گے، جو ریڈ زون کے قریب واقع ہے۔ سیکیورٹی خدشات کے باعث ہوٹل کو پہلے ہی خالی کرا لیا گیا ہے اور علاقے میں سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔
اسلام آباد میں ریڈ زون کو سیل کر دیا گیا ہے جبکہ شہر کے اہم داخلی راستے بھی بند ہیں۔ وفاقی دارالحکومت میں دو روز کی تعطیلات کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
مذاکرات کا بنیادی مقصد امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کو روکنے اور مستقل امن کی طرف پیش رفت ہے۔ ایران کی جانب سے پیش کیے گئے 10 نکاتی امن منصوبے میں آبنائے ہرمز پر نگرانی، امریکی افواج کے انخلا اور خطے میں فوجی کارروائیوں میں کمی جیسے مطالبات شامل ہیں۔
دوسری جانب امریکا نے ان تمام نکات کو مکمل طور پر قبول نہیں کیا۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس منصوبے کو “قابلِ عمل” قرار دیا ہے، جبکہ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ایران کو افزودہ یورینیم کا ذخیرہ محدود یا ختم کرنا ہوگا۔




