شمالی کوریا(اولس نیوز ) شمالی کوریا نے دو دن کے اندر دوسرا پروجیکٹائل داغ کر خطے میں کشیدگی کو دوبارہ بڑھا دیا ہے۔ ملک کے رہنما کم جونگ اُن نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایسے جدید میزائل تیار کر رہے ہیں جو امریکا اور اس کے اتحادیوں کو نشانہ بنا سکیں اور جنہیں ٹریک کرنا مشکل ہو۔
جنوبی کوریا کی فوج نے اس لانچ کی تصدیق تو کی ہے، لیکن فوری طور پر اس کی نوعیت یا فاصلے سے متعلق تفصیلات جاری نہیں کیں۔ اس سے ایک روز قبل بھی دارالحکومت کے قریب ایک اور پروجیکٹائل کے تجربے کا پتہ چلا تھا، جس کا جائزہ جنوبی کوریا اور امریکا کے ماہرین لے رہے ہیں۔
شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ حال ہی میں ایک جدید سالڈ فیول انجن کا کامیاب تجربہ کیا گیا، جو اس کے اسٹریٹجک ہتھیاروں کے پروگرام میں اہم پیش رفت ہے۔ کم جونگ اُن کے مطابق ایسے ہتھیار تیار کیے جا رہے ہیں جو تیزی سے لانچ ہو سکیں اور آسانی سے پکڑے نہ جا سکیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق سالڈ فیول میزائل زیادہ خطرناک سمجھے جاتے ہیں کیونکہ انہیں لانچ سے پہلے تیار کرنے میں کم وقت لگتا ہے اور انہیں چھپانا بھی آسان ہوتا ہے، جس سے ان کا بروقت سراغ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔
جنوبی کوریا کی خفیہ ایجنسی نے بھی عندیہ دیا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ممکنہ طور پر ایسے میزائل کی تیاری سے جڑی ہو سکتی ہے جو ایک سے زیادہ جوہری وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
2019 میں امریکا کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد شمالی کوریا نے اپنے جوہری پروگرام کو مزید تیز کر دیا ہے۔ حالیہ بیانات میں مذاکرات کی گنجائش تو ظاہر کی گئی ہے، لیکن امریکا سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کو پیشگی شرط نہ بنایا جائے۔
تازہ پیش رفت نے خطے کی سیکیورٹی صورتحال کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے اور عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔




