سری لنکا کا ایران جنگ میں غیر جانبداری کا اعلان، امریکا کو اڈہ دینے سے انکار

سری لنکا (ویب ڈیسک ) سری لنکاکے صدر انورا کمارا ڈسانائیکے نے پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے مارچ کے آغاز میں 2 جنگی طیارے مٹالا انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر تعینات کرنے کی درخواست کی تھی۔ انھوں نے واضح کیا کہ ان کا ملک ایران کے خلاف جاری جنگ میں غیر جانبدار ہے اور کسی بھی فریق کے ساتھ جھکاؤ کے الزامات کو مسترد کرتا ہے۔

قطر کے خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق سری لنکا کے صدر انورا کمارا ڈسانائیکے نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک ایران کے خلاف جاری تنازع میں غیر جانبدار پالیسی پر قائم ہے اور کسی بھی جانب جھکاؤ کے الزامات درست نہیں۔

انہوں نے پارلیمنٹ میں اپنے خطاب کے دوران بتایا کہ سری لنکا نے ایران کے تین بحری جہازوں کے خیرسگالی دورے کی درخواست مسترد کی، جب کہ امریکا کی جانب سے اپنے دو جنگی طیاروں کو ماٹالا ایئرپورٹ پر اتارنے کی درخواست بھی قبول نہیں کی گئی۔ ان امریکی طیاروں پر اینٹی شپ میزائل نصب تھے اور انہیں جبوتی کے اڈے سے لانے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔

سری لنکن صدر نے یہ بات بھارت میں تعینات امریکی سفیر سرجیو گور سے ملاقات کے بعد پارلیمنٹ میں کہی، جہاں انہوں نے حالیہ فیصلوں پر ہونے والی تنقید کا جواب دیا۔

صدر ڈسانائیکے کے مطابق بعض حلقے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ سری لنکا نے امریکا کے ساتھ دفاعی معاہدے کیے ہیں، اسی لیے ایران کے بحری جہاز کو سہولت دینے میں تاخیر کی گئی۔ تاہم انہوں نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ملک پر جانب داری کا الزام لگایا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ایران اور امریکا دونوں نے حالیہ دنوں میں اپنے اپنے فوجی رابطوں کے لیے درخواستیں دی تھیں، لیکن ایک غیر جانبدار ملک ہونے کے ناطے سری لنکا نے دونوں کو ہی اجازت دینے سے انکار کیا۔

سری لنکا کے صدر کا کہنا تھا کہ ملک کی پالیسی یہی ہے کہ کسی بھی ملک کو ترجیح نہ دی جائے اور نہ ہی اپنی سرزمین، فضائی حدود یا سمندری حدود کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے دیا جائے۔

واضح رہے کہ 5 مارچ کو سری لنکا نے ایرانی بحری جہاز بشر کے 208 عملے کے ارکان کو بچایا تھا، یہ جہاز ان تین ایرانی بحری جہازوں کے گروہ کا حصہ تھا جو بھارت میں منعقدہ ایک بین الاقوامی بحری تقریب میں شرکت کے بعد واپس لوٹ رہا تھا۔

اس سے قبل ایرانی جہاز ’دینا‘ کو امریکا نے سمندر میں ڈبو دیا تھا جس میں 80 سے زائد ایرانی اہلکار مارے گئے تھے۔ ایرانی فریگیٹ دینا جو بھارتی بندرگاہ ویساکھاپٹنم سے واپس آرہی تھی اور بغیر ہتھیار کے تھی، امریکی حملے میں اسے نشانہ بنایا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں