سرجری میں اے آئی کا بڑھتا استعمال، غلطیوں اور مریضوں کے زخمی ہونے کے واقعات سامنے آ گئے

طب کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال نے جہاں علاج کے نئے راستے کھولے ہیں، وہیں اس ٹیکنالوجی سے جڑے خطرات بھی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق بعض طبی آلات میں اے آئی کے استعمال کے باعث مریضوں کو سنگین نقصانات پہنچنے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

امریکا میں میڈیکل ڈیوائس بنانے والی کمپنیاں تیزی سے اپنے آلات میں مصنوعی ذہانت شامل کر رہی ہیں، تاہم اس رجحان کے ساتھ مریضوں کو متاثر ہونے کے دعوے بھی بڑھ رہے ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، جونسن اینڈ جونسن کی ذیلی کمپنی ایکلیرینٹ نے 2021 میں اپنے ’ٹرو ڈی نیویگیشن سسٹم‘ میں اے آئی فیچر شامل کرنے کا اعلان کیا تھا، جو کان، ناک اور گلے کی سرجری کے دوران سرجنز کی رہنمائی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

کمپنی کا کہنا تھا کہ نئے سافٹ ویئر میں مشین لرننگ کے ذریعے سرجیکل آلات کی درست پوزیشن دکھائی جائے گی، مگر اے آئی شامل کیے جانے کے بعد امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کو اس آلے سے متعلق 100 سے زائد ممکنہ حادثات اور نقصانات کی غیر تصدیق شدہ رپورٹس موصول ہوئیں۔

دستاویزات کے مطابق 2021 سے نومبر 2025 کے درمیان کم از کم 10 مریض زخمی ہوئے۔ بیشتر واقعات میں الزام لگایا گیا کہ سسٹم نے سرجنز کو آلات کی پوزیشن کے بارے میں غلط معلومات فراہم کیں، جس کے نتیجے میں کچھ مریضوں کے سر میں سیریبرواسپائنل فلوئڈ لیک، کھوپڑی کے نچلے حصے میں سوراخ اور بعض کیسز میں شریان کو نقصان پہنچنے کے باعث فالج ہوا۔

متاثرہ مریضوں میں سے دو نے ٹیکساس میں مقدمات دائر کیے ہیں اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کی چوٹوں کی وجہ اے آئی پر مبنی سسٹم تھا۔ تاہم ایکلیرینٹ اور اس کی مالک کمپنی انٹیگرا لائف سائنسز نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی مستند ثبوت موجود نہیں جو اے آئی اور ان واقعات کے درمیان تعلق ثابت کرے۔

یہ تمام معاملات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اے آئی نایاب بیماریوں کی تشخیص، نئی ادویات کی تیاری اور سرجری کی مہارت بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، مگر سافٹ ویئر کی خامیوں یا غلط استعمال کی صورت میں خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔

ایف ڈی اے کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت کم از کم 1,357 طبی آلات میں کسی نہ کسی سطح پر اے آئی شامل ہے، اور ’ٹرو ڈی‘ محض ایک مثال ہے۔ دیگر کیسز میں ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں جہاں دل کے مانیٹر غیر معمولی دھڑکن کی درست نشاندہی نہ کر سکے یا الٹراساؤنڈ مشینوں نے جنین کے اعضا کی شناخت میں غلطی کی۔

جونز ہاپکنز، جارج ٹاؤن اور ییل یونیورسٹی کے محققین کے مطابق 60 اے آئی پر مبنی طبی آلات میں 182 ایسے واقعات رپورٹ ہوئے جن کے بعد آلات کا استعمال روکنا پڑا، جبکہ ان میں سے 43 فیصد واقعات ایک سال کے اندر پیش آئے۔

ادھر امریکی طبی ریگولیٹر ایف ڈی اے کو بھی اے آئی والے آلات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ نگرانی کے عمل میں مشکلات کا سامنا ہے۔ عملے کی کمی اور بڑھتا ہوا کام جائزے کے نظام پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔

اس کے علاوہ اے آئی سے چلنے والے چیٹ بوٹس بھی طبی میدان میں استعمال ہو رہے ہیں، جہاں مریض خود تشخیص کرنے یا ڈاکٹر کے مشورے پر انحصار کم کرنے لگے ہیں، جس سے نئے طبی خدشات جنم لے رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ’ٹرو ڈی نیویگیشن سسٹم‘ کا معاملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اے آئی کے بغیر یہ آلہ زیادہ محفوظ تھا، مگر مارکیٹ میں جلد لانے کی دوڑ میں حفاظتی معیار متاثر ہوئے۔ سرجنز کی جانب سے خدشات ظاہر کیے جانے کے باوجود کمپنی نے اے آئی فیچر کو تشہیری حکمتِ عملی کے طور پر استعمال کیا۔

ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے فوائد سے انکار ممکن نہیں، تاہم مؤثر ریگولیٹری نگرانی اور حفاظتی اقدامات کے بغیر یہ ٹیکنالوجی مریضوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، اس لیے اے آئی پر مبنی طبی آلات کے استعمال میں احتیاط ناگزیر ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں