سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں آپریشن ردّالفتنہ-ون کامیابی سے مکمل کرلیا جس کے نتیجے میں 216 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔

بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن مکمل

سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گرد عناصر کے خلاف ایک بڑے اور منظم آپریشن کو کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ یہ کارروائیاں خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئیں جن کا مقصد عام شہریوں کو لاحق خطرات کا خاتمہ تھا۔

خفیہ اطلاعات پر کارروائیاں

29 جنوری 2026 کو قابلِ اعتماد انٹیلی جنس اطلاعات موصول ہونے کے بعد پنجگور اور ہرنائی کے نواحی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز شروع کیے گئے۔ ان علاقوں میں دہشت گرد عناصر کی موجودگی سے مقامی آبادی کو شدید خطرات لاحق تھے۔

دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا

آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ مختلف کارروائیوں میں بڑی تعداد میں دہشت گرد مارے گئے، جس سے ان کے نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچا۔

سلیپر سیلز کے خلاف کلیئرنس آپریشنز

کارروائیوں کے تسلسل میں مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، کومبنگ اور کلیئرنس ایکشنز کیے گئے تاکہ دہشت گردوں کے سلیپر سیلز کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔

بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد

آپریشن کے دوران غیر ملکی ساختہ اسلحہ، گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد اور دیگر خطرناک آلات برآمد کیے گئے۔ ابتدائی تحقیقات سے دہشت گردوں کو بیرونی معاونت فراہم کیے جانے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔

جانی نقصان اور قربانیاں

ان کارروائیوں کے دوران متعدد معصوم شہری، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، جان سے گئے۔ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کئی جوانوں نے بھی وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

قوم کا خراجِ عقیدت

قوم نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ شہداء کی جرات اور قربانی کو اعلیٰ قومی روایات کا مظہر قرار دیا گیا۔

دہشت گردی کے خلاف عزم برقرار

حکومت اور سیکیورٹی اداروں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی اور امن کے قیام تک یہ جدوجہد جاری رہے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں