کراچی (اولس نیوز ) کراچی کے گل پلازہ میں پیش آنے والے افسوسناک آتشزدگی کے واقعے کے بعد گزشتہ روز کوئٹہ کے مصروف تجارتی علاقے لیاقت بازار میں واقع حلیم پلازہ بھی شدید آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔ خوفناک آتشزدگی کے نتیجے میں پلازہ میں قائم 400 سے زائد دکانیں مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گئیں، جس سے تاجروں کو کروڑوں روپے کے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
عینی شاہدین کے مطابق آگ اچانک بھڑکی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے پلازہ میں پھیل گئی۔ ابتدائی لمحات میں فائر بریگیڈ کی بروقت رسپانس نہ ہونے کے باعث صورتحال مزید سنگین ہو گئی، جس پر مقامی دکانداروں اور شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت آگ بجھانے کی کوششیں شروع کیں۔
اس نازک صورتحال میں ڈی ایس پی سٹی انور علی ہزارہ اور ایس ایچ او سٹی صفیان دوتانی فوری طور پر موقع پر پہنچے اور اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر ریسکیو اور کنٹرول آپریشن کی قیادت کی۔ ان کی بروقت موجودگی، جرات مندانہ فیصلوں اور مؤثر حکمتِ عملی کے باعث آگ کو مزید پھیلنے سے روکا گیا، جس سے قریبی عمارتیں اور قیمتی انسانی جانیں محفوظ رہیں۔
موبائل ایسوسی ایشن کے صدر کلیم اللہ نے اس موقع پر ڈی ایس پی سٹی انور علی ہزارہ اور ایس ایچ او سٹی صفیان دوتانی کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ فائر بریگیڈ کی عدم موجودگی میں دکاندار اور مقامی افراد خود آگ بجھانے میں مصروف تھے، تاہم پولیس افسران کی بروقت قیادت اور تعاون نے بڑے سانحے کو مزید بڑھنے سے روک لیا۔
اسی تناظر میں کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے محبِ وطن شہری اور ویڈیو ایڈیٹر یاسر شاہ کی جانب سے ڈی ایس پی انور علی ہزارہ کے لیے دل سے تیار کی گئی ایک ویڈیو بھی منظرِ عام پر آئی، جو قوم کے سچے ہیروز کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔ ویڈیو میں اس عزم، جرات اور قربانی کو اجاگر کیا گیا ہے جس کا مظاہرہ ڈی ایس پی انور علی ہزارہ نے اس خطرناک صورتحال کے دوران کیا۔

یہ ویڈیو اس حقیقت کی گواہی ہے کہ پولیس محض ایک وردی نہیں بلکہ ذمہ داری، جذبے اور عوام کی حفاظت کے لیے ہر لمحہ تیار رہنے کا نام ہے۔ ڈی ایس پی انور علی ہزارہ اور ایس ایچ او سٹی صفیان دوتانی جیسے افسران کو عوام کی جانب سے حقیقی ہیرو قرار دیا جا رہا ہے، جن کی بدولت مشکل حالات میں بھی شہری خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں۔




