کوئٹہ (پ ر): صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال اور اس کے تباہ کن سماجی اثرات کے تدارک کے لیے سول سوسائٹی نیٹ ورک بلوچستان چیپٹر کے تحت ہر سطح پر مشترکہ آگاہی مہم چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ عزم گزشتہ روز امید فاؤنڈیشن ڈرگ ٹریٹمنٹ سینٹر میں منعقدہ سول سوسائٹی نیٹ ورک بلوچستان چیپٹر کے پہلے اجلاس میں کیا گیا، جس میں مختلف سماجی، طبی اور فلاحی اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سجاد محمود نے کہا کہ منشیات کے خلاف مؤثر جدوجہد کے لیے تمام اداروں، تنظیموں اور معاشرے کے ہر طبقے کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ نوجوان نسل کو اس ناسور سے بچایا جا سکے۔
نادر شاہ تارن نے والدین پر زور دیا کہ وہ بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ انہیں مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کریں تاکہ وہ منفی رجحانات سے محفوظ رہیں۔
اس موقع پر سیف اللہ بلوچ نے اعلان کیا کہ عنقریب السیف ڈرگ ٹریٹمنٹ سینٹر کی افتتاحی تقریب منعقد کی جائے گی، جو منشیات کے عادی افراد کی بحالی میں اہم کردار ادا کرے گا۔
مفتی سید محمد صادق آغا نے کہا کہ سول سوسائٹی نیٹ ورک بلوچستان کی دسویں قومی کانفرنس میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے رجسٹرڈ ورکرز کو سرٹیفکیٹس دیے جائیں گے۔
فضل محمد نورزئی نے کہا کہ نشہ آور اشیاء کے استعمال نے نوجوانوں کے ساتھ ساتھ بزرگ شہریوں، کم عمر بچوں اور اب خواتین کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے، جو معاشرتی، خاندانی اور گھریلو نظام کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
اجلاس میں شراف الدین بارکزئی نے زور دیا کہ منشیات کے عادی افراد کے علاج میں صرف ڈیٹاکسیفیکیشن کافی نہیں بلکہ ری ہیبلیٹیشن کو ترجیح دینا ناگزیر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بحالی کے عمل میں سائیکوتھراپی، جسمانی ورزش، روحانی لیکچرز، موٹیویشن سیشنز، فیملی کونسلنگ، ہنر سکھانے کے پروگرام اور مثبت تربیت شامل ہونی چاہیے تاکہ مریض دوبارہ صحت مند اور کارآمد زندگی گزار سکیں۔
اجلاس میں مختلف بحالی مراکز کے نمائندگان، ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور سماجی و فلاحی اداروں کے اراکین نے شرکت کی۔ شرکاء نے علاج و معالجہ کے طریقۂ کار، موجودہ مسائل، آئندہ کے لائحہ عمل اور مشترکہ حکمت عملی پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا اور منشیات کے خلاف مربوط اقدامات پر اتفاق کیا۔




