کوئٹہ (اولس نیوز ) اصل مسئلہ یہ نہیں کہ وزیراعظم پاکستان کوئٹہ پہنچ گئے ہیں بلکہ اصل تکلیف یہ ہے کہ صبح آٹھ بجے سے پورا شہر بند ہے،راستے سیل ہیں،عوام دفاتر،اسپتالوں اور روزگار تک پہنچنے سے محروم ہیں،سکیورٹی اور پروٹوکول کے نام پر عام شہری کو یرغمال بنا لیا گیا ہے،وزیراعظم پاکستان وزیراعلیٰ ہاؤس میں وزیراعلیٰ بلوچستان اور صوبائی کابینہ سے الگ الگ ملاقاتیں کریں گے مگر ان ملاقاتوں کی آڑ میں خوار صرف عوام ہوگا،یہ سوال اب شدت اختیار کر چکا ہے کہ حکمرانی عوام کے لیے ہے یا عوام کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے،کوئٹہ میں وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف ایک روزہ دورے پر پہنچ چکے ہیں جہاں ان کا استقبال وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور اراکین پارلیمنٹ نے کیا،وزیراعظم پاکستان اور گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل کے درمیان گورنر ہاؤس کوئٹہ میں ون آن ون ملاقات ہوگی جس میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور تازہ ترین صورتحال پر بریفنگ دی جائے گی،بعد ازاں وزیراعظم پاکستان وزیراعلیٰ ہاؤس میں وزیراعلیٰ اور صوبائی کابینہ سے الگ ملاقات کریں گے،دورے کے آخری مرحلے میں وزیراعظم پاکستان ڈی ایچ اے میں منعقدہ پروگرام میں شرکت کریں گے جہاں این پچیس کراچی تا چمن شاہراہ اور دانش اسکولوں کا افتتاح بھی متوقع ہے۔
کوئٹہ میں وزیراعظم کا دورہ، پروٹوکول کے نام پر شہری خوار
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل




