اولس نیوز — خصوصی رپورٹ
کوئٹہ میں خواتین اور فیملیز کے لیے متعارف کرائی گئی پنک بس سروس میں مرد حضرات کا بیٹھنا حکومت کی غفلت اور ناقص نگرانی کا کھلا ثبوت بن چکا ہے۔ یہ بس سروس خواتین کو محفوظ اور باوقار سفری سہولت فراہم کرنے کے لیے شروع کی گئی تھی، مگر عملی طور پر اس کے برعکس صورتحال سامنے آ رہی ہے۔
شہری حلقوں کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو خواتین خود کو غیر محفوظ محسوس کریں گی اور اس سہولت سے فائدہ اٹھانا چھوڑ دیں گی، جس سے حکومت کا یہ عوام دوست منصوبہ ناکام ہو جائے گا۔ اس وقت نہ بس انتظامیہ کی جانب سے کوئی مؤثر نگرانی موجود ہے اور نہ ہی متعلقہ محکموں کی طرف سے کسی قسم کی واضح جوابدہی نظر آتی ہے۔
اولس نیوز کے ذریعے وزیر اعلیٰ بلوچستان سے پُرزور اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں، ذمہ دار حکام کا تعین کریں اور واضح ہدایات جاری کریں کہ پنک بس میں صرف خواتین اور فیملیز کو سفر کی اجازت ہو۔ ساتھ ہی نگرانی کا مؤثر نظام قائم کیا جائے تاکہ خواتین کے تحفظ کے لیے شروع کیا گیا یہ منصوبہ حکومتی غفلت کی نذر نہ ہو اور اپنے اصل مقصد کے مطابق کامیابی سے جاری رہ سکے۔




