بلوچستان ضلع موسیٰ خیل کے تھانہ کوٹ خان محمد میں حالیہ افسوسناک واقعے کے زمینی حقائق اور سچ کو چھپانے کی ناکام کوششیں:
ایک دکان کی مشکوک چوری کے الزام میں جرگے کے ارکان نے 8 نوجوانوں کو آگ کے انگاروں پر چلنے کا حکم دیا۔ ان نوجوانوں کو اس دھمکی کے تحت مجبور کیا گیا کہ اگر وہ انکار کریں گے تو انہیں چور تصور کیا جائے گا۔ واقعہ کی وڈیوز وائرل ہوئیں تو وزیر اعلیٰ بلوچستان نے نوٹس لیا، مگر انتظامیہ نے غیر سنجیدگی سے کام لیا۔ لیویز جمعہ دار سعیداللہ نے متاثرین کے رشتہ داروں کو بوگس ایف آئی آرز میں نامزد کر کے انہیں حراساں کرنا شروع کر دیا، جبکہ مجرموں کو بچانے کی کوشش کی۔ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی سے درخواست ہے کہ وہ متاثرین کو انصاف فراہم کریں اور ان اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔
انتظامیہ کے غیر سنجیدگی کیوجہ سے لیویز جمع دار سعیداللہ ولد محمد نور نے جرگے کی سربراہ ملک احمد ولد ملک مراد خان کے نام ایف آئی آر میں نامزد ھی نہیں کیا
دوسری جانب، متاثرہ نوجوانوں میں سے ایک نوجوان جو انتہائی غریب خاندان سے تعلق رکھتا ہے، کو پکڑ کر زبردستی ایک بوگس درخواست پر دستخط کرائے گئے۔ اس کے ذریعے متاثرہ نوجوان کے رشتہ داروں کو جرگے کے ممبران ظاہر کر کے ان کے خلاف پکڑ دھکڑ شروع کر دی گئی۔ تاہم، یہ نوجوان کسی طرح جان بچا کر فرار ہو گیا اور فوراً ایک ویڈیو بنا کر انتظامیہ کی غیر سنجیدگی اور لیویز جمعہ دار سعیداللہ ولد محمد نور کی ظلم و بربریت کی داستان دنیا کے سامنے رکھی۔




