سیاسی لڑائی، ملازمین کی ‘گمشدگی’: محکمہ صحت کے بعد جنگلات کا سیکرٹری کمیٹی بھی غائب، آخر پسِ پردہ کون؟

بلوچستان اسمبلی میں ‘نوکریوں کی بندر بانٹ’: نور محمد دومڑ کے الزامات، فاروق کا پراسرار ‘لاپتہ’ ہونا اور صحت کے بعد جنگلات کی باری؟

کوئٹہ(اولس نیوز کوئٹہ )   بلوچستان اسمبلی کے ایوان میں محکمہ جنگلات کی بھرتیوں کے معاملے پر ہونے والی حالیہ تکرار نے صوبائی حکومت کی “شفافیت” اور “میرٹ” کے دعوؤں کا پول کھول دیا ہے۔ ایک طرف جہاں وزیراعلیٰ بلوچستان نے ایوان میں یہ اعلان کیا کہ “میں نوکریاں بیچنے نہیں دوں گا” اور سابق صوبائی وزیر نور محمد دومڑ سے شواہد طلب کیے، وہیں اب اس معاملے نے ایک نیا اور سنگین موڑ اختیار کر لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق نور محمد دومڑ کی جانب سے نشاندہی کے بعد کہ کمیٹی کے سیکرٹری فاروق (جن کا تعلق نور محمد دومڑ کے اپنے ضلع زیارت سے ہے) تمام تفصیلات سے واقف ہیں اور وزیراعلیٰ ان سے تحقیقات کروا لیں، مذکورہ اہلکار گزشتہ دو روز سے پراسرار طور پر غائب یا لاپتہ ہے۔ کیا صحت کے پرانے ڈرامے کو دہرایا جا رہا ہے؟ یہ صورتحال عوام اور سیاسی حلقوں میں گہری تشویش کا باعث بن رہی ہے۔ 12 جنوری 2025 کو محکمہ صحت کے اہلکار ‘حکمت اللہ’ کا واقعہ سب کے ذہنوں میں تازہ ہے، جسے مبینہ طور پر ‘اٹھا کر’ منسٹر اور سیکرٹری کی جانب سے مرضی کے کاغذات اور دستخط حاصل کیے گئے اور بعد ازاں پورا معاملہ دبا دیا گیا۔ کیا اب فاروق نامی اہلکار کے ساتھ بھی وہی پرانا ڈرامہ دہرایا جا رہا ہے تاکہ اصل حقائق کو مسخ کر کے اپنی مرضی کا تصفیہ کیا جا سکے؟ سب سے اہم اور قابلِ غور بات یہ ہے کہ نور محمد دومڑ نے آن دی فلور آف دی ہاؤس کہیں بھی یہ نہیں کہا کہ میرٹ کی پامالی ہو رہی ہے یا عام نوجوانوں کا حق مارا جا رہا ہے۔ ان کا اصل گلہ یہ تھا کہ ان کی پسند کے “18 افراد” کو بھرتی کیوں نہیں کیا گیا۔ نور محمد دومڑ کا یہ بیان بذاتِ خود میرٹ کی قبر کھودنے کے مترادف ہے۔ کیا اسمبلی کے فلور پر اپنے بندے نوازنے کا مطالبہ کرنا ہی اب ان کے نزدیک “شفافیت” ہے؟ اس تمام تر ڈرامے پر عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ عوام میں یہ بحث زور پکڑ چکی ہے کہ اگر وزیراعلیٰ صوبائی سیکرٹریز کو بااختیار بناتے ہیں لیکن دوسری طرف منسٹرز کو خوش کرنے کے لیے دیگر معاملات (پی ڈی پی وغیرہ) میں ان کا حصہ مقرر کرتے ہیں، تو پھر ان نوکریوں کی بندر بانٹ کا حصہ بھی براہِ راست منسٹرز کو ہی دے دیا جائے تاکہ کم از کم بے چارے سیکرٹریز اور جونیئر ملازمین کی جان تو چھوٹے اور وہ اس سیاسی کھینچ تان میں قربانی کے بکرے نہ بنیں۔ ایوان کے اندر اور باہر بننے والی یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ جنگ میرٹ کی نہیں بلکہ اپنے پسندیدہ افراد کو کھپانے کی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان فاروق نامی ملازم کی پراسرار گمشدگی پر کیا نوٹس لیتے ہیں یا یہ معاملہ بھی ماضی کی طرح فائلوں کی دھول بن جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں