کوئٹہ، 23 اپریل 2026 — بورڈ آف ریونیو بلوچستان نے صوبے کے تین اضلاع کوئٹہ، پشین اور قلعہ عبداللہ کے 14 مواضعات میں جاری پرانے بندوبستی نوٹیفکیشنز واپس لینے کا بڑا فیصلہ کر دیا ہے۔ یہ اقدام لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کے تحت کیا گیا، جبکہ حکام کے مطابق متعلقہ مواضعات کی حتمی تصدیق (Final Attestation) مکمل نہ ہونے کے باعث سابقہ بندوبستی عمل کو منسوخ کرنا ضروری قرار دیا گیا۔
یہ فیصلہ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو بلوچستان کمبر دشتی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن نمبر 53/Settlement-2025/3640-47 کے ذریعے نافذ کیا گیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق دفعہ 116 اور دفعہ 40 کے تحت ان علاقوں میں ماضی میں جاری تمام بندوبستی نوٹیفکیشنز کو ابتداء سے ہی ڈی نوٹیفائی تصور کیا جائے گا۔
کن علاقوں کے نوٹیفکیشن واپس لیے گئے؟
متاثرہ مواضعات میں کوئٹہ، پشین اور قلعہ عبداللہ کے درج ذیل علاقے شامل ہیں:
خوش کابہ سراغرگئی
مین ہنہ
سنجیدی اغبرگ
ریگی
کاریزات کچلاک
بابوزائی
تالہ دینار
شنغری
محال
ابو بکر
نیلی
کاریز جھنڈا
نسوزائی
گوال
غرگئی اوبشت لیچڑی
کاریز بدل
لیچاری
گوشمالی
توبہ کاکڑی
کاریز بدل
خشکابہ
گجر شمالی
نوٹیفکیشن واپس لینے کی وجہ کیا بنی؟
حکام کے مطابق ان مواضعات میں بندوبست کے دوران زمینوں کے ریکارڈ، ملکیت، حدود اور دیگر قانونی مراحل کی حتمی توثیق مکمل نہیں ہو سکی تھی۔ اسی وجہ سے پہلے جاری شدہ بندوبستی نوٹیفکیشنز کو واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ آئندہ کسی بھی قسم کے قانونی تنازع یا انتظامی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔
اب آگے کیا ہوگا؟
بلوچستان حکومت نے زمینوں کے ریکارڈ کو جدید اور شفاف بنانے کے لیے Land Information Management System (LIMS) کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔ اس نظام کے تحت زمینوں کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ اور ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کیا جائے گا۔
پہلے مرحلے میں شامل ڈویژنز:
کوئٹہ ڈویژن
سبی ڈویژن
لورالائی ڈویژن
یہ 14 مواضعات بھی اب نئے سرے سے LIMS کے تحت ڈیجیٹل سیٹلمنٹ کا حصہ بنیں گے۔
متعلقہ حکام کو ہدایات جاری
بورڈ آف ریونیو نے سیٹلمنٹ آفیسر کوئٹہ کو ہدایت جاری کی ہے کہ ان تمام مواضعات کا ریکارڈ 05 مئی 2026 تک متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کے حوالے کیا جائے اور تکمیل کی رپورٹ بورڈ کو ارسال کی جائے۔
پس منظر
یہ بندوبستی نوٹیفکیشنز مختلف اوقات میں 2014 سے 2025 کے دوران جاری کیے گئے تھے۔ تاہم اب حکومت نے پرانے دستی اور نامکمل نظام کے بجائے جدید ڈیجیٹل ماڈل اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
عوام کو کیا فائدہ ہوگا؟
ماہرین کے مطابق نئے نظام سے:
زمینوں کے تنازعات میں کمی آئے گی
ریکارڈ میں ردوبدل مشکل ہوگا
انتقال اور فرد کے عمل میں آسانی ہوگی
قبضہ مافیا اور جعلی دستاویزات کے امکانات کم ہوں گے
عوام کو شفاف اور تیز سروس ملے گی
نوٹیفکیشن کی نقول کہاں بھیجی گئیں؟
نوٹیفکیشن کی کاپیاں وزیراعلیٰ بلوچستان کے پرنسپل سیکرٹری، چیف سیکرٹری آفس، کمشنر کوئٹہ، اور ڈپٹی کمشنرز کوئٹہ، پشین اور قلعہ عبداللہ سمیت دیگر متعلقہ حکام کو ارسال کر دی گئی ہیں۔




