بلوچستان حکومت کا انوکھا کارنامہ: گریڈ 17 افسر کو سیدھا گریڈ 19 کی کرسی، میرٹ کا جنازہ نکال دیا گیا

حکومت بلوچستان نے ایک اور متنازع فیصلہ کرتے ہوئے قواعد و ضوابط کو کھلے عام نظر انداز کر دیا۔ جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق زرعی ریسرچ سینٹر پنجگور کے ایک گریڈ 17 کے افسر، محمد یوسف (ایکٹنگ ہارٹیکلچرسٹ)، کو نہ صرف گریڈ 18 بلکہ براہِ راست گریڈ 19 کی اہم ذمہ داری سونپ دی

حیران کن طور پر ایک “ایکٹنگ” افسر کو مزید ایکٹنگ بنیاد پر اگلے سے بھی اعلیٰ عہدے پر بٹھا دیا گیا، جسے بیوروکریسی میں “ڈبل ایکٹنگ” کا نام دیا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کس قانون اور کس سروس رول کے تحت ایک جونیئر افسر کو دو درجے اوپر بٹھایا جا سکتا ہے؟

دوسری جانب، سابق وائس پرنسپل جو گریڈ 18 کے مستقل افسر تھے اور گریڈ 19 کی پوسٹ پر تعینات تھے، انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق وہ اکیڈمیا سے وابستہ، تجربہ کار اور سینئر ترین افسران میں شمار ہوتے ہیں۔

مزید چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ نئے تعینات ہونے والے وائس پرنسپل نہ صرف اکیڈمک پس منظر نہیں رکھتے بلکہ ان کا سنیارٹی نمبر بھی دسویں نمبر پر ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ سینئر افسران کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا۔

یہ فیصلہ نہ صرف میرٹ کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے بلکہ سرکاری نظام میں شفافیت پر بھی بڑا سوالیہ نشان کھڑا کر رہا ہے۔
باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر اسی طرح جونیئر اور نان کیڈر افسران کو نوازا جاتا رہا تو اداروں کی کارکردگی مزید تباہی کی طرف جائے گی

اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا حکومت اس متنازع تعیناتی کا کوئی قانونی جواز پیش کرتی ہے یا یہ معاملہ بھی دیگر کئی فیصلوں کی طرح فائلوں میں دب کر رہ جائے گا

اپنا تبصرہ بھیجیں