بلوچستان (اولس نیوز کوئٹہ ) بلوچستان میں امن و امان اور منشیات کے خلاف کارروائیوں سے متعلق سرکاری بیانات روز سامنے آتے ہیں۔ کامیابیوں کے دعوے کیے جاتے ہیں، اعداد و شمار پیش کیے جاتے ہیں اور یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ حالات بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ لیکن جب زمینی حقیقت کو دیکھا جائے تو ایک مختلف منظر سامنے آتا ہے، ایسا منظر جو سوال اٹھاتا ہے کہ اگر سب کچھ درست سمت میں جا رہا ہے تو عوام کے مسائل کیوں بڑھ رہے ہیں؟
صوبے کے حساس اضلاع میں پولیس کے انتظامی ڈھانچے کی کمزوریاں اب کھل کر سامنے آنے لگی ہیں۔ حیرت انگیز طور پر ایک جونیئر افسر کو بیک وقت پشین اور قلعہ عبداللہ جیسے دو نہایت اہم اور نازک اضلاع کا چارج دے دیا گیا ہے۔ دوسری طرف کئی سینئر افسران، جن کے پاس تجربہ، صلاحیت اور انتظامی مہارت موجود ہے، او ایس ڈی کے طور پر غیر فعال بیٹھے ہیں۔ یہ صورتحال صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ پورے نظام پر سوالیہ نشان ہے۔
پشین اور قلعہ عبداللہ وہ علاقے ہیں جہاں چیلنجز معمولی نہیں۔ یہاں منشیات کی اسمگلنگ ایک دیرینہ مسئلہ ہے، جرائم کی نوعیت پیچیدہ ہے، سرحدی حساسیت اپنی جگہ موجود ہے اور قبائلی تنازعات بھی کسی وقت بڑے بحران کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ ایسے اضلاع میں ایک ایسے افسر کی ضرورت ہوتی ہے جو مکمل توجہ، تجربہ اور مضبوط فیصلہ سازی کے ساتھ میدان میں موجود ہو۔ ایک ہی افسر پر دو اضلاع کی ذمہ داری ڈال دینا انتظامی بوجھ بھی ہے اور خطرہ بھی۔
او ایس ڈی کلچر نے اداروں کی روح کو کمزور کر دیا ہے۔ جب قابل افسران دفاتر تک محدود کر دیے جائیں اور عملی میدان میں کمزور انتظامی فیصلے ہوں تو پھر کارکردگی کیسے بہتر ہو سکتی ہے؟ عوام یہ دیکھتے ہیں کہ اہل لوگ موجود ہیں مگر استعمال نہیں ہو رہے، اور جہاں ضرورت ہے وہاں انتظامی خلا دکھائی دیتا ہے۔ یہی خلا عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچاتا ہے۔
منشیات کا مسئلہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مسئلہ ہے۔ جب نوجوان نسل نشے کی طرف جائے، خاندان تباہ ہوں، جرائم میں اضافہ ہو اور معیشت متاثر ہو تو یہ صرف ایک پولیس کیس نہیں رہتا بلکہ سماجی بحران بن جاتا ہے۔ اگر ایسے وقت میں حساس اضلاع کمزور انتظامی فیصلوں کے سپرد ہوں تو نقصان کئی گنا بڑھ سکتا ہے۔
بلوچستان کے عوام اب الفاظ نہیں، نتائج چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ تقرریاں سفارش نہیں بلکہ میرٹ پر ہوں، ذمہ داریاں تعلقات نہیں بلکہ صلاحیت کے مطابق دی جائیں، اور حساس علاقوں میں ایسے افسران تعینات ہوں جو مکمل وقت اور مکمل توجہ کے ساتھ عوامی تحفظ یقینی بنا سکیں۔
اگر اعلیٰ حکام واقعی امن و امان کی بہتری اور منشیات کے خاتمے میں سنجیدہ ہیں تو اب وقت بیانات سے آگے بڑھنے کا ہے۔ کیونکہ جب دعووں اور حقیقت کے درمیان فاصلہ بڑھ جاتا ہے تو صرف ادارے کمزور نہیں ہوتے، بلکہ عوام کا اعتماد بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ اور جب اعتماد ٹوٹ جائے تو امن قائم کرنا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔
بلوچستان آج ایک سوال پوچھ رہا ہے، کیا فیصلے واقعی عوامی مفاد میں ہو رہے ہیں، یا صرف فائلوں میں سب کچھ ٹھیک دکھایا جا رہا ہے؟




