ایم کیو ایم: صحافیوں پر چھاپے، کرپشن سے توجہ ہٹانے کی کوشش!

کوئٹہ: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان بلوچستان کے رہنماؤں نے کوئٹہ میں صحافیوں کے دفاتر اور گھروں پر چھاپوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے آزادیٔ صحافت پر حملہ قرار دیا ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے مرکزی رہنما و صوبائی صدر ملک عمران اللہ کاکڑ، صوبائی جنرل سیکرٹری سید سلیم اختر ایڈووکیٹ، میر امداد حسین مری، انتظار حسین اور دیگر رہنماؤں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ آغا عبید سمیت سینئر صحافیوں کی آواز دبانے کی کوششیں قابل مذمت ہیں۔ ان کے مطابق صحافیوں کے گھروں پر چھاپے دراصل بیوروکریسی کی مبینہ کرپشن سے توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش ہیں۔

رہنماؤں کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں حکمرانی کی صورتحال تشویشناک ہے، جہاں ان کے بقول صوبائی وزراء سے زیادہ بیوروکریسی صوبے کے وسائل پر قابض ہے۔ گریڈ 17 سے گریڈ 21 تک کے افسران کی مبینہ کرپشن، سرکاری آسامیوں کی بندربانٹ اور اربوں روپے کے مالی معاملات پر آزادانہ تحقیقات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں سرکاری آسامیوں کی خرید و فروخت کے حوالے سے اسمبلی ارکان بھی ایک دوسرے کے خلاف بیانات دے رہے ہیں، جبکہ نوجوان بے روزگاری کے باعث دیگر شہروں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔ رہنماؤں نے پی ڈی ایم اے سمیت مختلف سرکاری اداروں میں بھرتیوں اور مالی معاملات کی بھی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

ایم کیو ایم رہنماؤں نے چیف جسٹس بلوچستان اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ صوبائی وزراء، بیوروکریسی اور بالخصوص محکمہ خزانہ کے مالی معاملات کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں، جبکہ صحافیوں کے خلاف کارروائیوں اور انہیں خوف زدہ کرنے کے اقدامات کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ایم کیو ایم بلوچستان صحافی برادری کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے جلد اہم پریس کانفرنس کرے گی، جس میں صوبائی حکومت، محکمہ خزانہ اور بیوروکریسی کے حوالے سے آئندہ کا لائحہ عمل بھی پیش کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں