بلوچستان میں صحافیوں کے گھروں اور دفاتر پر چھاپے، تشویش کی لہر

بلوچستان میں صحافیوں کے گھروں اور دفاتر پر رات گئے چھاپے، آغا عبید سمیت متعدد صحافیوں کی رہائش گاہیں اور دفاتر نشانے پر، صحافتی حلقوں میں تشویش کی لہر

کوئٹہ(اولس نیوز ) بلوچستان میں صحافیوں کے گھروں اور دفاتر پر رات گئے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی کارروائیوں کے بعد آزادیٔ صحافت، صحافیوں کے تحفظ اور بنیادی انسانی حقوق سے متعلق اہم سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ بلوچستان ڈیجیٹل میڈیا ایسوسی ایشن (بی ڈی ایم اے) نے ان کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں آزادیٔ صحافت اور آزادیٔ اظہارِ رائے پر قدغن قرار دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق رات تقریباً ایک بجے این سی سی آئی اے کی بھاری نفری نے بلوچستان ڈیجیٹل میڈیا ایسوسی ایشن کے صدر اور سینئر صحافی آغا عبید کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا۔ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی کے دوران 40 سے زائد گاڑیوں میں اہلکار موقع پر پہنچے، جن میں اے ٹی ایف کے اہلکار بھی شامل تھے۔ اسی دوران صحافی ڈاکٹر ثناء کے گھر اور صحافی مقبول جعفر کے دفتر پر بھی چھاپے مارے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

معاملہ اس وقت مزید توجہ کا مرکز بن گیا جب سوشل میڈیا ذرائع سے یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ این سی سی آئی اے کے اہلکاروں نے پاکستان امیج نیوز کے دفتر پر بھی کارروائی کی، جہاں سے لاکھوں روپے مالیت کے کیمرے، پوڈ کاسٹ مائیک اور دیگر صحافتی آلات اپنے ہمراہ لے گئے، جبکہ دفتر میں توڑ پھوڑ کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ تاہم ان تفصیلات کی متعلقہ حکام کی جانب سے باضابطہ تصدیق سامنے آنا باقی ہے۔

بلوچستان ڈیجیٹل میڈیا ایسوسی ایشن نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ صحافیوں کے گھروں اور دفاتر پر رات کی تاریکی میں چھاپے مارنا آزادیٔ صحافت، آزادیٔ اظہارِ رائے اور بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے تشویش ناک ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق اگر کسی صحافی کے خلاف کوئی شکایت یا الزام موجود ہے تو اس کا جواب شفاف قانونی اور آئینی طریقۂ کار کے تحت دیا جانا چاہیے، نہ کہ ایسے اقدامات کے ذریعے صحافی برادری کو دباؤ میں لایا جائے۔

بی ڈی ایم اے نے آغا عبید، ڈاکٹر ثناء اور مقبول جعفر کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کی وضاحت طلب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان اور ان کے پرنسپل سیکرٹری کی مدعیت میں ہونے والی مبینہ کارروائیوں کے حقائق عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ صحافت ریاست اور عوام کے درمیان ایک اہم رابطے کا کردار ادا کرتی ہے، اس لیے صحافیوں کو ہراساں کرنے یا ان کے پیشہ ورانہ کام میں رکاوٹ ڈالنے کے تاثر کو دور کرنا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔

دوسری جانب گزشتہ دس روز کے دوران بلوچستان کے وزیراعلیٰ کی جانب سے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے احتساب اور کارکردگی سے متعلق تنقید کے بعد صوبے کے متعدد صحافیوں نے بھی اس معاملے کو اپنے پلیٹ فارمز پر اٹھایا تھا۔ اس کے بعد صحافیوں کے خلاف کارروائیوں کے وقت اور پس منظر پر بھی سوالات سامنے آرہے ہیں۔ بعض صحافتی حلقوں کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اہم عوامی معاملات پر آواز اٹھانے والے صحافیوں کو دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم ان خدشات اور کارروائیوں کے درمیان کسی براہِ راست تعلق کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

صحافتی حلقوں کی جانب سے پی ایس ڈی پی کی گرانٹس اور دیگر سرکاری مفادات سے مستفید ہونے والے بعض افراد کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد کے معاملات پر تنقید اور سوالات اٹھانا صحافیوں کا پیشہ ورانہ حق ہے، جبکہ کسی بھی شکایت کی صورت میں متعلقہ اداروں کو قانون کے مطابق کارروائی کرنی چاہیے۔

آغا عبید کی رہائش گاہ پر کارروائی کے دوران اہلِ خانہ کو بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ صحافیوں کے گھروں پر رات گئے بھاری نفری کے ساتھ کارروائیوں اور میڈیا دفاتر سے آلات لے جانے کی اطلاعات نے بلوچستان میں صحافیوں کے تحفظ اور چادر و چار دیواری کے تقدس سے متعلق بحث کو مزید اہم بنا دیا ہے۔

بلوچستان ڈیجیٹل میڈیا ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ آغا عبید، ڈاکٹر ثناء اور مقبول جعفر کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کی وجوہات اور قانونی بنیادیں واضح کی جائیں، صحافیوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے اور ان کے آئینی و پیشہ ورانہ حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ ایسوسی ایشن نے واضح کیا ہے کہ صحافی برادری کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر جمہوری اور قانونی فورم پر آواز بلند کی جائے گی۔

اب بنیادی سوال یہ ہے کہ بلوچستان میں صحافیوں کے گھروں اور میڈیا دفاتر پر ایک ہی رات میں ہونے والی ان کارروائیوں کی اصل وجوہات کیا ہیں؟ 40 سے زائد گاڑیوں کے ہمراہ آغا عبید کے گھر پہنچنے والی نفری کو آخر کس نوعیت کی کارروائی درپیش تھی؟ پاکستان امیج نیوز کے دفتر سے صحافتی آلات لے جانے اور توڑ پھوڑ کی اطلاعات کی حقیقت کیا ہے؟ اور متعلقہ حکام ان تمام سوالات پر اپنا مؤقف کب سامنے لائیں گے؟

صحافتی حلقوں نے حکومت بلوچستان، این سی سی آئی اے اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے اور تمام کارروائیوں کی شفاف تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں