کوئٹہ: صحافی آغا عبید کے گھر این سی سی آئی اے کا بھاری نفری کے ساتھ چھاپہ، 40 سے زائد گاڑیاں پہنچ گئیں،
کوئٹہ: بلوچستان میں آزادیِ صحافت اور صحافیوں کے تحفظ سے متعلق تشویش کے دوران صحافی آغا عبید کے گھر پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے بھاری نفری کے ہمراہ چھاپہ مارا، کارروائی میں 40 سے زائد گاڑیوں میں سوار اہلکار شریک تھے، جن میں اے ٹی ایف کے اہلکار بھی شامل تھے۔
گزشتہ 10 روز کے دوران بلوچستان کے موجودہ وزیراعلیٰ کی جانب سے ایف ڈبلیو او (FWO) کے احتساب اور کارکردگی پر تنقید کے بعد بلوچستان کے متعدد صحافیوں نے بھی اس اہم معاملے پر کھل کر آواز اٹھائی اور اسے عوام کے سامنے پیش کیا۔ تاہم صحافیوں کی جانب سے اس معاملے پر آواز بلند کرنے کے بعد مبینہ طور پر انہیں دباؤ میں لانے کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
پی ایس ڈی پی (PSDP) کی گرانٹس اور مفادات سے مستفید ہونے والے بعض صحافی اور سویلین افراد مبینہ طور پر باضمیر صحافیوں کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں، جبکہ این سی سی آئی اے کی جانب سے رات گئے معزز صحافیوں کے گھروں پر چھاپے مارنے کا سلسلہ چادر و چار دیواری کے تقدس کی خلاف ورزی اور قابلِ مذمت عمل ہے۔
صحافی آغا عبید کے گھر ہونے والی کارروائی کے دوران اہلِ خانہ کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ کارروائی میں 40 سے زائد گاڑیوں کی موجودگی اور بھاری نفری کی شرکت نے بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
صحافیوں کے گھروں پر رات کی تاریکی میں چھاپے مارنا فاشزم کی بدترین مثال ہے اور پی ایس ڈی پی سے مستفید ہونے والا کوئی بھی گروہ سچ کی آواز کو دبا نہیں سکتا۔ صحافت پر قدغن لگانے کی ہر کوشش کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔
متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ صحافیوں پر دباؤ ڈالنے اور ان کے گھروں پر چھاپوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے۔ حکومت بلوچستان، متعلقہ اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی اس معاملے کا نوٹس لینا چاہیے۔
اگر کسی شہری کے خلاف کوئی شکایت یا مقدمہ موجود ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، تاہم کارروائی کے دوران اہلِ خانہ کے حقوق اور چادر و چار دیواری کے تقدس کو ہر صورت ملحوظ رکھا جائے۔




