کوئٹہ: وفاقی وزارتِ تجارت کی جانب سے ایران سے درآمدات کے لیے الیکٹرانک امپورٹ فارم (EIF) سے متعلق عارضی رعایت واپس لینے کے فیصلے کے بعد پاک ایران سرحدی تجارت سے وابستہ تاجروں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ تاجروں کے مطابق اس فیصلے سے سرحد پر کسٹم کلیئرنس کا عمل متاثر ہوا ہے، جبکہ پہلے سے ایران سے مال لے کر آنے والی گاڑیاں بھی کلیئرنس کی منتظر ہیں۔
تاجروں کی جانب سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق سرحد پر بڑی تعداد میں کنٹینرز اور مال بردار گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں، جن میں تازہ پھلوں سمیت مختلف اشیائے تجارت موجود ہیں۔ اگر کلیئرنس میں تاخیر طویل ہوئی تو تازہ پھل خراب ہونے کا خدشہ ہے، جس سے تاجروں کو بھاری مالی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ کئی کاروباری افراد ایران میں فیکٹریوں اور سپلائرز کو پہلے ہی ادائیگیاں کر چکے ہیں اور سامان خریدنے کے بعد اسے لوڈ کرکے پاکستان روانہ کیا گیا تھا۔ اب اگر کسٹم کلیئرنس رک جاتی ہے تو نہ صرف مال کی ترسیل متاثر ہوگی بلکہ گاڑیوں کے کرایوں، سرحد پر انتظار، اضافی اخراجات اور سامان خراب ہونے کے باعث نقصان میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ تاجروں کے مطابق مجموعی مالی نقصان اربوں روپے تک پہنچنے کا خدشہ ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی اعداد و شمار سامنے نہیں آئے۔
بلوچستان میں کاروبار اور روزگار پر اثرات کا خدشہ
بلوچستان پہلے ہی بے روزگاری، محدود کاروباری مواقع اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں پاک ایران سرحدی تجارت کی اچانک بندش یا رکاوٹ سے سرحدی علاقوں میں کاروبار کرنے والے تاجروں، ٹرانسپورٹرز، مزدوروں، کلیئرنگ ایجنٹس اور دیگر متعلقہ افراد کا روزگار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
سرحدی تجارت سے ہزاروں افراد کا روزگار وابستہ ہے۔ سامان کی نقل و حرکت رکنے سے ٹرانسپورٹ، گوداموں، لوڈنگ اور ان لوڈنگ سمیت کئی شعبوں میں کام کم ہوسکتا ہے، جس کا براہِ راست اثر مقامی معیشت پر پڑنے کا اندیشہ ہے۔
تاجروں کا حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ
تاجروں نے وفاقی وزارتِ تجارت، فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس فیصلے کے اثرات کا فوری جائزہ لیا جائے اور پہلے سے لوڈ شدہ گاڑیوں اور سرحد پر موجود کنٹینرز کے لیے واضح اور قابلِ عمل طریقۂ کار جاری کیا جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر نئی شرائط پر عمل درآمد ضروری ہے تو پہلے سے خریدے گئے اور روانہ کیے جا چکے سامان کے لیے عبوری رعایت یا خصوصی کلیئرنس کا انتظام کیا جائے، تاکہ تازہ پھلوں اور دیگر سامان کو نقصان سے بچایا جاسکے اور تاجروں کی سرمایہ کاری محفوظ رہے۔
تاجروں کے مطابق کسی بھی نئی پالیسی پر عمل درآمد سے پہلے اس کے زمینی اثرات، سرحدی تجارت سے وابستہ افراد کے مسائل اور متبادل انتظامات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر متعلقہ تجارتی تنظیموں سے مشاورت کرے اور ایسا حل نکالے جس سے قانونی تقاضے بھی پورے ہوں اور بلوچستان کے کاروبار و روزگار کو مزید نقصان سے بھی بچایا جاسکے۔
اہم وضاحت: وزارتِ تجارت کے 16 اکتوبر 2026 کے مبینہ نوٹیفکیشن، سرحد پر پھنسے کنٹینرز کی درست تعداد، تازہ پھلوں کی مقدار اور اربوں روپے کے ممکنہ نقصان کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔ اسی طرح EIF سے متعلق رعایت واپس لینے کا مطلب بذاتِ خود تمام پاک ایران زمینی سرحدوں کی مکمل بندش ثابت نہیں کرتا۔ ان امور کی تصدیق متعلقہ سرکاری حکام اور کسٹم حکام کے بیان سے ضروری ہے۔




