نثار باز خان کا خواجہ آصف کو جواب، خیبرپختونخوا کے معدنی وسائل اور رائلٹی کی ادائیگیوں پر اہم سوالات اٹھا دیے

پشاور: باجوڑ سے منتخب رکن خیبرپختونخوا اسمبلی نثار باز خان نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان کے جواب میں صوبے کے معدنی وسائل، وزیرستان میں تانبے کی کان کنی اور رائلٹی کی ادائیگیوں سے متعلق اہم دعوے سامنے رکھ دیے ہیں۔ نثار باز خان نے مطالبہ کیا ہے کہ معدنیات کے شعبے کا شفاف آڈٹ اور احتساب کیا جائے، تاہم تحقیقات کے نام پر تمام چھوٹے لیز ہولڈرز کو مشکوک قرار دے کر ان کا روزگار متاثر نہ کیا جائے۔

نثار باز خان کے مطابق وہ گزشتہ دو سال سے صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مائنز اینڈ منرلز کے رکن ہیں اور محکمہ معدنیات کے ریکارڈ پر کمیٹی میں بحث ہوتی رہی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ محکمہ معدنیات کے ریکارڈ کے مطابق وزیرستان میں تانبے کی کان کنی سے 2016 سے 2024 تک 9 لاکھ 87 ہزار ٹن تانبا نکالا گیا، جبکہ 2025 اور 2026 کا ریکارڈ اس میں شامل نہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ متعلقہ منصوبے کے تحت 30 مربع کلومیٹر، یعنی تقریباً 7,410 ایکڑ رقبے پر لارج اسکیل لائسنس موجود ہے۔ ان کے مطابق اس منصوبے میں فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) شامل ہے اور نکالے گئے تانبے کی مالیت اور سرکاری رائلٹی کی ادائیگیوں کا مکمل حساب سامنے آنا چاہیے۔

نثار باز خان نے اپنے بیان میں تانبے کی مالیت اور رائلٹی کے حوالے سے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ متعلقہ ریکارڈ کے مطابق محکمہ معدنیات کو صرف 16 کروڑ 90 لاکھ روپے ادا کیے گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر رائلٹی کی ادائیگیوں میں کوئی کمی یا بے ضابطگی ہوئی ہے تو اس کی آزادانہ تحقیقات کی جائیں اور مکمل ریکارڈ عوام کے سامنے لایا جائے۔ ان دعوؤں اور مالی اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں چار ہزار سے زائد چھوٹے لیز ہولڈرز موجود ہیں، جن میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے افراد، ریٹائرڈ فوجی افسران اور دیگر شہری شامل ہیں۔ ان کے مطابق اگر کسی لائسنس کے اجرا میں رشوت، اقرباپروری یا قانون شکنی ہوئی ہے تو اس کی تحقیقات ہونی چاہییں، لیکن چند افراد کی مبینہ بے ضابطگیوں کی بنیاد پر تمام لیز ہولڈرز کو مشکوک قرار دینا مناسب نہیں۔

نثار باز خان نے معدنیات کے آن لائن پورٹل اور زیرِ التوا درخواستوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 2024 میں تقریباً سات ہزار درخواستوں پر لائسنس جاری نہ ہونے کا معاملہ اٹھایا گیا تھا، جس کے بعد نیب نے بھی اس حوالے سے جانچ پڑتال کی۔ ان کے مطابق بعد میں قانونی تقاضے پورے کرنے والی درخواستوں پر کارروائی شروع کی گئی اور متعلقہ کمیٹی کو رپورٹ پیش کی گئی۔

انہوں نے 2025 میں معدنیات کے قانون میں مجوزہ تبدیلیوں پر بھی اعتراض اٹھایا اور دعویٰ کیا کہ مجوزہ ترامیم سے صوبے کے معدنی وسائل اور چھوٹے لیز ہولڈرز کے حقوق متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر سیاسی جماعتوں، جرگوں اور دیگر حلقوں کی مخالفت کے بعد مجوزہ بل کو آگے بڑھانے کا عمل روک دیا گیا۔

نثار باز خان نے واضح کیا کہ وہ خیبرپختونخوا حکومت کی ہر پالیسی کا دفاع نہیں کرتے اور صوبے میں ناقص حکمرانی و بدعنوانی پر ان کے تحفظات موجود ہیں، تاہم ان کے بقول احتساب ثبوت، قانون اور حقائق کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ محکمہ معدنیات کے ریکارڈ، لائسنسوں کے اجرا، تانبے کی پیداوار، فروخت اور رائلٹی کی ادائیگیوں کا شفاف آڈٹ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے معدنی وسائل صوبے کے عوام کی مشترکہ میراث ہیں اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر قانونی اور جمہوری فورم پر آواز اٹھائی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں