مستونگ میں مسافر وین سے 20 زیرِ تربیت پولیس اہلکار اغوا

مستونگ میں 20 زیرِ تربیت پولیس اہلکار اغوا، بلوچستان میں دو ماہ کے دوران سرکاری اہلکاروں کے اغوا کا چوتھا واقعہ
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں نامعلوم مسلح افراد نے جمعے کے روز مسافر وین روک کر 20 زیرِ تربیت پولیس اہلکاروں کو اغوا کرلیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق مغوی اہلکار قلات ریکروٹ ٹریننگ سینٹر میں تربیت حاصل کر رہے تھے اور ہفتہ وار چھٹی پر اپنے گھروں کو جا رہے تھے کہ مستونگ کی حدود میں گورگینہ کے مقام پر انہیں مسلح افراد نے روک لیا اور اپنے ساتھ لے گئے۔ ایک سینئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اہلکار ایک نجی مسافر وین میں سوار تھے۔ مسلح افراد نے وین میں موجود افراد کی شناخت کی اور پولیس اہلکاروں کو اپنے ساتھ لے گئے، جبکہ وین میں سوار تین دیگر مسافروں کو چھوڑ دیا گیا۔ پولیس کے مطابق مغوی اہلکاروں کو نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے اور ان کی بازیابی کے لیے کوششیں شروع کردی گئی ہیں۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب بلوچستان میں سرکاری اہلکاروں کے اغوا کے دیگر واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ تین روز قبل رخشاں ڈویژن کے کمشنر اسداللہ کاکڑ کو بھی ڈرائیور سمیت اغوا کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق کمشنر کوئٹہ سے خاران جا رہے تھے کہ خاران کے قریب انہیں اور ان کے ساتھیوں کو اغوا کرلیا گیا۔ بعدازاں مسلح افراد نے ایک شخص کو رہا کردیا، تاہم کمشنر اسداللہ کاکڑ اور ان کا ڈرائیور تاحال لاپتہ ہیں۔ اطلاعات کے مطابق گزشتہ دو ماہ کے دوران بلوچستان میں سرکاری اہلکاروں کے اغوا کا یہ چوتھا واقعہ ہے۔ اس سے قبل جوڈیشل مجسٹریٹ اور ڈپٹی کمشنر کے اغوا کے واقعات بھی پیش آئے تھے، تاہم دونوں کو بعدازاں رہا کردیا گیا تھا۔
تاحال کسی تنظیم نے ان واقعات کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ بلوچستان میں حالیہ دنوں کے دوران مسلح حملوں کے ساتھ اغوا کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں، جس کے باعث سرکاری اہلکاروں کی حفاظت اور مغویوں کی بازیابی کا معاملہ اہمیت اختیار کرگیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں