کوئٹہ( اولس نیوز ) کوئٹہ کے علاقے نوحصار میں غربت اور بے روزگاری کے باعث موٹر سائیکل پر دو لیٹر ڈیزل لا کر فروخت کرنے والے گولڈ میڈلسٹ نوجوان کی حادثاتی موت نے بلوچستان میں باصلاحیت نوجوانوں کو درپیش مسائل پر ایک بار پھر توجہ مرکوز کر دی ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق جاں بحق نوجوان نے کھیل کے میدان میں ملک اور صوبے کا نام روشن کرتے ہوئے چار سے پانچ مرتبہ گولڈ میڈل حاصل کیے تھے، تاہم روزگار کے مناسب مواقع نہ ملنے کے باعث وہ مبینہ طور پر اپنے گزر بسر کے لیے ڈیزل فروخت کرنے پر مجبور تھا۔ نوجوان کی حادثاتی موت کے بعد وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کے میرٹ، نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی اور بلوچ طلبہ کو پی ایچ ڈی کے لیے بیرونِ ملک بھیجنے سے متعلق حکومتی دعووں پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ بلوچستان میں کھیلوں سمیت مختلف شعبوں میں صلاحیت رکھنے والے ہزاروں نوجوان مناسب سرپرستی اور روزگار کے مواقع کے منتظر ہیں۔ ان کے مطابق بعض باصلاحیت نوجوان معاشی مجبوریوں کے باعث اپنی صلاحیتوں کو آگے بڑھانے کے بجائے مختلف محنت مزدوری اور روزگار کے دیگر ذرائع اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ کھیلوں سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ کرکٹ، فٹ بال اور دیگر کھیلوں میں صوبے کے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، تاہم انہیں مستقل بنیادوں پر مواقع اور سرپرستی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ بعض حلقے حکومتی پالیسیوں، سفارش اور مبینہ بے ضابطگیوں کو بھی نوجوانوں کے لیے مواقع محدود ہونے کی وجوہات میں شمار کرتے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ گولڈ میڈلسٹ نوجوان کی موت نے یہ سوال ضرور اٹھا دیا ہے کہ اگر کھیل کے میدان میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے نوجوان بھی معاشی مشکلات سے دوچار ہوں تو صوبے میں ٹیلنٹ کو روزگار اور عملی سرپرستی فراہم کرنے کے حکومتی اقدامات کس حد تک مؤثر ہیں۔ واقعے نے بلوچستان کے باصلاحیت نوجوانوں کے مستقبل، روزگار کے مواقع اور کھیلوں کے فروغ کے حوالے سے حکومتی پالیسیوں پر سنجیدہ غور کی ضرورت کو اجاگر کر دیا ہے۔




