کوئٹہ ( اولس نیوز ) سیکیورٹی فورسز کے ایک آپریشن کے دوران گرفتار کیے گئے ایک مشتبہ دہشت گرد نے تفتیش کے دوران اپنے مبینہ اعترافی بیان میں دہشت گرد تنظیم کے طریقۂ کار، بھرتی کے عمل، تربیت اور کارروائیوں سے متعلق متعدد دعوے کیے ہیں۔
حکام کے مطابق گرفتار شخص کی شناخت حبیب اللہ کے نام سے ہوئی ہے، جس کا تعلق ضلع خضدار کی تحصیل اورناچ کے علاقے سیراندوہ سے بتایا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس نے دعویٰ کیا کہ اسے جھوٹے وعدوں اور مالی لالچ کے ذریعے تنظیم میں شامل کیا گیا، جہاں ابتدا میں اس کی ذہن سازی کی گئی اور بعد ازاں ایک تربیتی کیمپ میں اسلحہ، بارودی مواد، گھات لگا کر حملہ کرنے، شناخت چھپانے اور کارروائی کے بعد فرار ہونے کی تربیت دی گئی۔بیان کے مطابق گرفتار ملزم نے دعویٰ کیا کہ وہ مختلف دہشت گرد کارروائیوں سے قبل اسلحہ، گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد، خوراک اور ادویات دیگر گروہوں تک پہنچاتا رہا اور متعدد حملوں میں شریک بھی رہا۔ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ہر کارروائی کے بعد اسے مالی معاوضہ دیا جاتا تھا، جبکہ بعض حملوں کے بعد 25 ہزار روپے بطور ادائیگی ملنے کا بھی ذکر کیا۔اعترافی بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ تنظیم میں شامل ہونے والے کئی افراد بے روزگاری اور معاشی مشکلات کے باعث اس کا حصہ بنے، جبکہ تنظیم چھوڑنے کی کوشش کرنے والوں کو سخت نتائج کی دھمکی دی جاتی تھی۔ اس نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ کیمپوں میں بنیادی سہولیات نہ ہونے کے باعث قریبی علاقوں سے لوٹ مار کی جاتی تھی۔حکام کے مطابق گرفتار ملزم نے خضدار پولیس چیک پوسٹ پر حملے کا بھی ذکر کیا، جہاں فائرنگ کے نتیجے میں دو شہری جان کی بازی ہار گئے تھے۔




