زیارت دھرنا سیاسی رنگ اختیار کر چکا، شہداء کی تدفین ہونی چاہیے: نور محمد دمڑ

صوبائی وزیر خوراک نور محمد دمڑ کی پریس کانفرنس

کوئٹہ (اولس نیوز ) صوبائی وزیر خوراک نور محمد دمڑ نے مانگی کے علاقے میں دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد حملے میں پولیس کے جوان شہید ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ ہنہ اوڑک کے متاثرین کے ساتھ حکومت نے خوش اسلوبی سے مذاکرات کیے، جو کامیاب ہوئے۔ ان کے مطابق زیارت دھرنا کمیٹی میں متاثرین کے بجائے سیاسی جماعتوں کے نمائندگان کو شامل کیا گیا ہے، جبکہ سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کی وجہ سے اب تک مذاکرات بے معنی اور بے مقصد رہے ہیں۔

نور محمد دمڑ نے بحیثیت نمائندہ زیارت کے لواحقین سے درخواست کی کہ وہ شہداء کی تدفین کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ شہداء کے لواحقین اپنے پیاروں کے چہرے دیکھنے کے لیے ترس رہے ہیں، اور وہ ہر فورم پر شہداء کے لواحقین کے ساتھ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دھرنا کمیٹی کے کچھ مطالبات کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع کرنا قانونی طور پر ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہداء کے لواحقین کمیٹی میں شہداء کے متاثرین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دیں، اور شہداء متاثرین کمیٹی کے مطالبات پر من و عن عملدرآمد کیا جائے گا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ سیاسی جماعتیں شہداء کے وارثین کو لاحاصل جنگ کی طرف دھکیل رہی ہیں، جبکہ ہمارے شہداء کے ساتھ کچھ سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے بدتمیزی کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے زیارت دھرنے میں شرکت کی کوشش کی، مگر ان کے پہنچنے سے پہلے معاملہ سیاسی رنگ اختیار کر چکا تھا۔

نور محمد دمڑ کے مطابق انہوں نے وزیر اعلیٰ سے رابطہ کرکے درخواست کی کہ وہ زیارت دھرنے کے مطالبات پر غور کریں، اور وزیر اعلیٰ نے بھی دھرنے کے جائز مطالبات کی منظوری کی یقین دہانی کرائی، مگر افسوس کہ دھرنا سیاسی رنگ اختیار کر گیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ دھرنے میں مری، سوات اور کراچی سے لوگ آ کر سیاست چمکا رہے ہیں، جبکہ وہ ورثاء اور حکومت کے درمیان پل کا کردار ادا کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں