دو برسوں میں 3778 بند اسکول فعال، 7 لاکھ سے زائد بچوں کا سرکاری اسکولوں میں داخلہ یقینی بنایا گیا، وزیر اعلیٰ بلوچستان

کوئٹہ ( اولس نیوز )‌ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے تعلیم کے شعبے میں متعارف کرائی گئی اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور گزشتہ دو برسوں کے دوران صوبے بھر میں 7 لاکھ 17 ہزار سے زائد بچوں کا سرکاری اسکولوں میں داخلہ یقینی بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں اسکول چھوڑنے والے بچوں کی شرح میں 5 فیصد کمی جبکہ طلبہ کے اسکولوں میں برقرار رہنے کی شرح میں 11 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو تعلیم کے شعبے میں حکومتی پالیسیوں پر عوامی اعتماد کا واضح ثبوت ہے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک پیغام میں وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے صوبے میں غیر فعال تعلیمی اداروں کی بحالی کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جس کے تحت 3 ہزار 778 غیر فعال اسکولوں کو دوبارہ فعال بنایا گیا ان اسکولوں کی بحالی سے ہزاروں بچے دوبارہ تعلیم کے دھارے میں شامل ہوئے اور دور دراز علاقوں میں تعلیمی سرگرمیوں کو فروغ ملا انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی پسماندگی کے خاتمے، نوجوان نسل کے روشن مستقبل اور صوبے کی پائیدار ترقی کا انحصار معیاری تعلیم پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت تعلیم کے شعبے میں بہتری کیلئے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی ہے تاکہ ہر بچے کو تعلیم کی مساوی سہولیات فراہم کی جا سکیں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ حکومت تعلیم کے شعبے میں کسی قسم کی غفلت، کرپشن یا کوتاہی برداشت نہیں کرے گی اور اساتذہ کی حاضری، اسکولوں کی فعالیت اور تعلیمی معیار کی بہتری کیلئے موثر نگرانی کا نظام متعارف کروایا گیا ہے انہوں نے کہا کہ صوبے کے ہر بچے تک تعلیم کی رسائی یقینی بنانے کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بلوچستان تعلیم کے شعبے میں مزید اصلاحات متعارف کراتے ہوئے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیمی نظام کی تشکیل کیلئے اقدامات جاری رکھے گی تاکہ بلوچستان کے نوجوان قومی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں