دنیا ایک نئے خطرناک دور میں داخل؟ شمالی کوریا نے اعلان کر دیا کہ اگر سپریم لیڈر پر حملہ ہوا تو فوری جوابی ایٹمی کارروائی ہوگی۔ عالمی کشیدگی، خوف اور طاقت کی سیاست ایک بار پھر سرخیوں میں۔

شمالی کوریا نے ملکی آئین میں اہم اور حساس نوعیت کی ترمیم منظور کرلی ہے جس کے تحت غیر ملکی حملے میں سپریم لیڈر کِم جونگ اُن کے قتل کی صورت میں فوج فوری جوابی ایٹمی حملہ کرنے کی پابند ہوگی۔ شمالی کوریا نے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد یہ سخت ترین پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کے مطابق جنوبی کوریا کی نیشنل انٹیلی جنس سروس (این آئی ایس) کی جانب سے سرکاری حکام کو دی گئی بریفنگ کے مطابق، یہ آئینی ترمیم 22 مارچ کو پیانگ یانگ میں 15ویں سپریم پیپلز اسمبلی کے پہلے اجلاس میں منظور کی گئی۔

نئی ترامیم کے تحت اگرچہ جوہری فورسز کی کمان کِم جونگ اُن کے پاس ہی ہے، تاہم ان کے مارے جانے یا غیر فعال ہونے کی صورت میں جوابی حملوں کا باقاعدہ طریقہ کار وضع کر دیا گیا ہے۔

جوہری پالیسی قانون کے ترمیم شدہ آرٹیکل 3 میں واضح طور پر درج ہے کہ ’اگر ریاست کی جوہری فورسز کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو دشمن قوتوں کے حملے کی وجہ سے خطرے میں ڈالا جاتا ہے تو فوری اور خودکار طور پر جوہری حملہ کیا جائے گا۔‘

سیئول کی کوکمن یونیورسٹی میں تاریخ اور بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر آندرے لنکوف نے اس پیش رفت کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ایران کا واقعہ شمالی کوریا کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی ثابت ہوا ہے۔‘

ان کا ماننا ہے کہ یہ غیر معمولی فیصلہ ایران میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے قریبی مشیروں کی شہادت کے بعد سامنے آیا ہے، جس نے پیانگ یانگ کو اپنی ملکی سلامتی اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے حوالے سے سخت ترین حکمت عملی اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔

کم جونگ اُن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی ذاتی سکیورٹی کے حوالے سے انتہائی محتاط ہیں۔ وہ ہمیشہ سکیورٹی اہلکاروں کے حصار میں رہتے ہیں، فضائی سفر سے گریز کرتے ہیں اور عموماً بھاری بکتر بند ٹرین میں سفر کرتے ہیں۔

ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس نے تہران میں ٹریفک کیمروں کو ہیک کر کے ایرانی رہنماؤں کی لوکیشن حاصل کی تھی۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا میں یہ ہتھکنڈہ کامیاب نہیں ہو سکتا کیونکہ پیانگ یانگ کا کیمرہ سسٹم (سی سی ٹی وی) اور انٹرانیٹ انتہائی محدود اور سخت حکومتی کنٹرول میں ہے۔

پروفیسر آندرے لنکوف کے مطابق، شمالی کوریا کا سب سے بڑا خوف سیٹلائٹ ٹیکنالوجی سے حاصل کی جانے والی معلومات ہیں، اور ان کا جوابی جوہری حملہ ممکنہ طور پر جنوبی کوریا کے بجائے براہِ راست امریکا کی جانب ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا کی فوج قیادت کے ساتھ مکمل وفاداری رکھتی ہے اور اگر کسی بیرونی حملے کو ریاستی بقا کے لیے خطرہ سمجھا گیا تو جوابی جوہری حملے کے احکامات پر عمل کیے جانے کا امکان بہت زیادہ ہے۔

دنیا میں سیاسی اور عسکری کشیدگی میں اضافے کے ساتھ ہی شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے (کے سی این اے) نے جمعے کو تصدیق کی ہے کہ پیانگ یانگ جنوبی سرحد کے ساتھ ایک نیا توپ خانہ تعینات کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

کِم جونگ اُن نے رواں ہفتے ایک اسلحہ فیکٹری کا دورہ کر کے نئے ’155 ملی میٹر سیلف پروپیلڈ گن ہووٹزر‘ کی تیاری کا جائزہ لیا۔ یہ نیا ہتھیار 37 میل (تقریباً 60 کلومیٹر) سے زائد مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

جنوبی کوریا کا دارالحکومت سیئول شمالی کوریا کی سرحد سے تقریباً 35 میل کے فاصلے پر واقع ہے، جس کا مطلب ہے کہ جنوبی کوریا کا دارالحکومت سیئول اور گیوونگی صوبے کے اہم صنعتی مراکز اب براہِ راست شمالی کوریا کے نشانے پر آ گئے ہیں۔ کے سی این اے کے مطابق کِم جونگ اُن نے اس ہتھیار کو فوج کے زمینی آپریشنز کے لیے انتہائی اہم اور فیصلہ کُن قرار دیا ہے۔

شمالی کوریا نے حال ہی میں اپنے آئین سے کوریا کے اتحاد کے دیرینہ حوالوں کو بھی حذف کر دیا ہے اور جنوبی کوریا کو اپنا سب سے بڑا دشمن قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ شمالی اور جنوبی کوریا آج بھی تکنیکی طور پر حالتِ جنگ میں ہیں کیوں کہ 1950 سے 1953 تک جاری رہنے والی کوریائی جنگ مستقل امن معاہدے کے بجائے جنگ بندی معاہدے پر ختم ہوئی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں