کراچی میں محکمۂ انسدادِ دہشتگردی کی بڑی کارروائی، جعفر ایکسپریس حملے کا مرکزی منصوبہ ساز ہلاک

کراچی ( اولس نیوز ) کراچی میں محکمۂ انسدادِ دہشتگردی سندھ نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی کے اہم کمانڈر سمیت چار انتہائی مطلوب دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا، جبکہ شہر میں ایک بڑے دہشتگرد حملے کا منصوبہ بھی ناکام بنا دیا گیا۔

حکام کے مطابق یہ کارروائی شہرِ کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن ملیر میں خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئی، جہاں پہلے سے گرفتار دہشتگردوں سے حاصل ہونے والی معلومات کے بعد ان کا محاصرہ کیا گیا۔

کارروائی کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں اور دہشتگردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں چار دہشتگرد مارے گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان میں سے تین کی شناخت کر لی گئی ہے جبکہ ایک کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی۔

تحقیقات کے بعد ایک اہم دہشتگرد کی شناخت سہیل بلوچ عرف گرک کے نام سے ہوئی، جو اس کالعدم تنظیم میں ایک اہم کمانڈر کے طور پر سرگرم تھا۔ بتایا گیا ہے کہ وہ پہلے بلوچ لبریشن فرنٹ سے وابستہ رہا اور بعد ازاں سن 2022 میں اس تنظیم میں شامل ہوا۔

سہیل بلوچ مختلف بڑی دہشتگرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں ملوث رہا اور اسے ایک نہایت خطرناک کردار کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ حکام کے مطابق وہ دہشتگردوں کو اسلحہ اور رسد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اہم کارروائیوں کی نگرانی بھی کرتا تھا۔

مزید بتایا گیا ہے کہ وہ پنجگور میں ایک اعلیٰ سرکاری افسر کے قتل میں بھی ملوث تھا اور اس کے علاوہ پچاس سے زائد سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کے قتل کے مقدمات میں بھی مطلوب تھا۔

محکمۂ انسدادِ دہشتگردی کے مطابق سہیل بلوچ کے دیگر اہم دہشتگردوں کے ساتھ براہِ راست روابط تھے اور وہ خودکش حملہ آوروں کو مختلف مقامات پر بھیجنے میں بھی ملوث رہا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے نتیجے میں شہرِ کراچی میں ایک بڑے دہشتگرد حملے کا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا ہے، جبکہ دہشتگردوں کے اس جال کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں