بلوچستان: جج کی مستقلی کی مخالفت پر تنازعہ، جوڈیشل کمیشن کے کردار پر سوالات

پاکستان بار کونسل کے رکن منیر احمد خان کاکڑ کا الزام,مبہم شکایت کی بنیاد پر قابل جج کے خلاف فیصلہ ناانصافی،عید کے بعد حقائق عوام کے سامنے لانے کا اعلان

پاکستان بار کونسل کے رکن منیر احمد خان کاکڑ نے کہا ہے کہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان میں بلوچستان کی نمائندگی کرنے والے بعض افراد کا کردار انتہائی مایوس کن رہا ہے اور اس حوالے سے عید کے بعد بلوچستان کے وکلا اور عوام کے سامنے تمام حقائق رکھے جائیں گے۔

اپنے جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا کہ ایک مبہم اور غیر واضح شکایت کی بنیاد پر کسی جج کی بطور جج مستقلی میں رکاوٹ ڈالنا بلوچستان کے قابل، محنتی اور باصلاحیت وکلا کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔ ان کے مطابق بار سیاست میں وکلا اپنے نمائندوں کو اس لیے منتخب کرتے ہیں کہ وہ وکلا کے حقوق، آئین و قانون کی بالادستی اور انصاف کے نظام کا دفاع کریں، مگر بدقسمتی سے بعض عناصر نمائندگی کے نام پر صوبے کے بلوچ اور پشتون وکلا کو آپس میں لڑانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

منیر احمد خان کاکڑ نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان میں بلوچستان کی نمائندگی کرنے والوں کا کردار انتہائی قابل تشویش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی جج کی کارکردگی، عدالتی فیصلوں کے معیار اور پیشہ ورانہ دیانتداری کے باوجود اس کی مخالفت کی جائے تو یہ صرف ایک فرد کے خلاف فیصلہ نہیں بلکہ بلوچستان کے قابل وکلا کے مستقبل پر بھی کاری ضرب ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور کمیشن میں صوبے سے موجود نمائندے کی جانب سے اپنے ہی صوبے کے ایک قابل جج کی مستقلی کی مخالفت افسوسناک ہے، کیونکہ جوڈیشل کمیشن کے دیگر ارکان کو بلوچستان کے زمینی حقائق اور یہاں کے وکلا کی صلاحیتوں کا اتنا ادراک نہیں ہوتا جتنا مقامی افراد کو ہوتا ہے۔

ان کے مطابق جسٹس محمد ایوب خان کی کارکردگی رپورٹ میں انہیں بہتر سے بہترین جج قرار دیا گیا اور ان کے فیصلوں کے معیار اور مقدمات کو بروقت نمٹانے کی صلاحیت کو بھی سراہا گیا، مگر اس کے باوجود ایک مبہم شکایت کو بنیاد بنا کر ان کی مستقلی کی مخالفت کرنا انصاف کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

منیر احمد خان کاکڑ نے الزام عائد کیا کہ اس فیصلے کے ذریعے بلوچستان کے بلوچ اور پشتون وکلا کو آپس میں دست و گریباں کرنے کی خطرناک سازش کی جا رہی ہے، جو نہ صرف وکلا برادری بلکہ صوبے کے عدالتی ماحول کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں یہ اصول طے کیا گیا تھا کہ جب تک کسی جج کے خلاف واضح اور ٹھوس شواہد پر مبنی شکایت موجود نہ ہو اور شکایت کنندہ کی تفصیلات واضح نہ ہوں، اس بنیاد پر کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ تاہم افسوس کہ اس اصول کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک قابل جج کی پیشہ ورانہ ساکھ کو نقصان پہنچایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کا اجلاس دو ماہ قبل ہوا تھا جبکہ میٹنگ منٹس دو ماہ بعد جاری کیے گئے، جو خود ایک سوالیہ نشان ہے۔ ان کے مطابق میٹنگ منٹس کے پیراگراف نمبر 5 اور 7 میں بعض افراد کے کردار کی وضاحت موجود ہے۔

منیر احمد خان کاکڑ نے کہا کہ بار کونسل کی جانب سے کمیشن میں موجود رکن نے ذاتی مفادات کے لیے وکلا کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ عید کے بعد بلوچستان کے وکلا اور عوام کو ان تمام کرداروں سے متعلق آگاہ کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں