کان مہترزئی (اولس نیوز ) کان مہترزئی کلی یعقوبہ کو جانے والی واحد مرکزی سڑک پر امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہو چکی ہے۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق گزشتہ کئی ماہ سے اس روڈ پر دن دہاڑے چوری اور ڈکیتی کی وارداتیں معمول بن چکی ہیں۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ مسلح افراد سرِعام لوگوں کو لوٹتے ہیں اور باآسانی فرار ہو جاتے ہیں، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے مؤثر کارروائی دیکھنے میں نہیں آ رہی۔
رہائشیوں کے مطابق کلی یعقوبہ گاؤں تھانہ کان مہترزئی سے چند قدم کے فاصلے پر واقع ہے، لیکن اس کے باوجود آج تک کسی بڑے واقعے کے ملزمان گرفتار نہیں کیے جا سکے۔
مقامی افراد نے بتایا کہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں بھی ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں نامعلوم مسلح افراد نے ایک نوجوان کو گولی مار کر اس کی موٹرسائیکل اور نقدی چھین لی اور موقع سے فرار ہو گئے۔ رہائشیوں کے مطابق واقعے کے بعد بھی پولیس بروقت جائے وقوعہ پر نہیں پہنچی۔
علاقہ مکینوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سڑک پر ایک پولیس چوکی بھی قائم ہے، مگر کئی سالوں سے وہ عملاً غیر فعال اور خالی پڑی ہے جس کے باعث سیکیورٹی کے انتظامات مزید کمزور ہو چکے ہیں۔
کلی یعقوبہ کے عوام کا کہنا ہے کہ یہ سڑک ان کے گاؤں کا واحد راستہ ہے جس سے روزانہ درجنوں افراد سفر کرتے ہیں، مگر موجودہ صورتحال میں لوگ شدید خوف اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
مقامی افراد نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر امن و امان کی صورتحال بہتر نہ بنائی گئی اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو وہ احتجاجاً کان مہترزئی کی مرکزی شاہراہ بند کرنے پر مجبور ہوں گے۔
واضح رہے کہ یہ اہم شاہراہ کوئٹہ اور ژوب کو آپس میں ملاتی ہے، جس کی بندش سے ٹریفک اور آمدورفت شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
علاقہ مکینوں نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اس سڑک پر پولیس گشت بڑھایا جائے، غیر فعال پولیس چوکی کو فعال کیا جائے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے تاکہ علاقے میں امن بحال ہو سکے۔




