قلعہ عبداللہ کے علاقے کلی زیارت میں ایک قبائلی شخصیت کے گھر پر محکمہ کسٹم کے مبینہ چھاپے کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی۔ مقامی افراد کے مطابق مسلح اہلکار رات کے وقت کوئٹہ چمن شاہراہ کے قریب گاؤں میں داخل ہوئے اور گھروں کی تلاشی لینے کی کوشش کی۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اہلکار اسمگلنگ کے سامان کی تلاش کا جواز پیش کرتے ہوئے رہائشی کمروں تک پہنچ گئے، جس پر علاقہ مکینوں میں شدید ردعمل پیدا ہوا۔ لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے کوئٹہ چمن شاہراہ کو بند کردیا اور کسٹم اہلکاروں کے خلاف پتھراؤ کیا۔
اطلاعات کے مطابق اس دوران کسٹم اہلکاروں کی جانب سے مبینہ طور پر فائرنگ بھی کی گئی، جس کے بعد وہ اپنی گاڑیاں چھوڑ کر علاقے سے واپس چلے گئے۔ بعد ازاں مقامی انتظامیہ موقع پر پہنچی اور حالات کو قابو میں لیا۔
انتظامیہ نے کسٹم کی گاڑیوں کو علاقے سے نکال کر قریبی تھانے منتقل کردیا۔
علاقے کے مشران کا کہنا ہے کہ سرحد بند ہونے کے باوجود اگر اسمگلنگ روکنی ہے تو اہلکاروں کو سرحدی مقامات پر کارروائی کرنی چاہیے، نہ کہ رات کے وقت گھروں میں داخل ہونا چاہیے۔
اس واقعے پر تاحال محکمہ کسٹم کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔




