کوئٹہ (اولس نیوز ) بلوچستان کے عوام کے مسائل کم ہونے کے بجائے بڑھتے جا رہے ہیں، لیکن دوسری طرف عوام کے منتخب نمائندوں کی ترجیحات کیا ہیں، اس کی ایک جھلک سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھی جا سکتی ہے۔ مبینہ طور پر بلوچستان اسمبلی کے ایک اجلاس کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں میر عاصم کرد گیلو آرام سے نشست پر سو رہے ہیں، جبکہ ان کے ساتھ بیٹھے میر صادق عمرانی موبائل فون سے ویڈیو بنانے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔
یہ واضح نہیں کہ یہ ویڈیو کس اجلاس کی ہے، مگر منظر کچھ ایسا ہے جو بلوچستان کی سیاست کی سنجیدگی پر سوال کھڑے کر دیتا ہے۔ ایک طرف صوبے کے لوگ پانی، روزگار، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات کے لیے پریشان ہیں، دوسری طرف اسمبلی کے اجلاس میں ایسے مناظر دیکھنے کو ملیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر نمائندے اجلاس میں بھی آرام فرما ہوں تو عوام کے مسائل کون اٹھائے گا۔
یہی وہ ایوان ہے جہاں عوام کی آواز بلند ہونی چاہیے، جہاں ترقی کے منصوبوں، امن و امان اور نوجوانوں کے مستقبل پر بحث ہونی چاہیے۔ مگر اگر اجلاس میں توجہ مسائل کے بجائے نیند اور ویڈیوز بنانے پر ہو تو پھر عوام کو امید کس سے رکھنی چاہیے۔
سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کے بعد لوگوں نے طنزیہ انداز میں تبصرے شروع کر دیے ہیں۔ بعض افراد کا کہنا ہے کہ شاید بلوچستان کے مسائل اتنے حل ہو چکے ہیں کہ اب اجلاس میں سکون کی نیند لینا بھی ممکن ہو گیا ہے۔ جبکہ کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ یہ منظر دراصل اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ عوام اور ایوان کے درمیان فاصلے کتنے بڑھ چکے ہیں۔
اگر واقعی عوام کے منتخب نمائندے اجلاس میں اس طرح نظر آئیں تو پھر بلوچستان کے عام شہری کے ذہن میں یہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ایوان میں بیٹھنے والے ہی جاگتے نہیں تو صوبے کے مسائل کیسے حل ہوں گے۔ یہ ویڈیو چاہے کسی بھی دن یا اجلاس کی ہو، مگر اس نے ایک بار پھر اس حقیقت کو نمایاں کر دیا ہے کہ بلوچستان کے عوام اپنے نمائندوں سے جس سنجیدگی اور ذمہ داری کی توقع رکھتے ہیں، وہ کہیں نہ کہیں کمزور دکھائی دیتی ہے۔




