ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عبداللہ عمران چیمہ نے بتایا کہ بارہ اور تیرہ فروری 2026 کی درمیانی شب سردار فقیر جو قتل کے مختلف مقدمات میں مطلوب تھا کو ضلع پشین سے چمن منتقل کیا جا رہا تھا۔ دورانِ منتقلی ژڑہ بند کے قریب چار مختلف گاڑیوں نے قیدی وین کا تعاقب کرتے ہوئے اسے روک لیا۔
ان گاڑیوں میں تقریباً 15 سے 20 نامعلوم مسلح افراد سوار تھے، جو مختلف قسم کے بھاری اسلحے سے لیس تھے جن میں راکٹ لانچر اور کلاشنکوف شامل تھے۔ مزید برآں تقریباً 10 مسلح افراد نے قریبی پہاڑوں پر پوزیشن سنبھال رکھی تھی۔
حملہ آوروں نے پہلے قیدی وین کے ٹائر پر فائرنگ کر کے اسے برسٹ کیا۔ گاڑی رکنے پر ملزمان نے قیدی وین پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ شدید فائرنگ کے نتیجے میں سردار فقیر شمکزئی موقع پر ہلاک ہو گیا، جبکہ ایک پولیس کانسٹبل شدید زخمی ہو گیا۔سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے مطابق قیدی وین کو شدید فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا اور گاڑی کی باڈی پر متعدد گولیوں کے نشانات پائے گئے واقعے کے فوراً بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے جبکہ مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔اے آر وائی نیوز کے مطابق سردار فقیر قتل کے کئی مقدمات میں انتہائی مطلوب دہشت گرد تھا جس نے کوئٹہ چمن شاہراہ قلعہ عبداللہ کے مقام پر پولیس چیک پوسٹ پر حملہ کیا تھا ۔ حملے میں اس وقت کے لیویز انچارج انسپکٹر ڈاکٹر سعداللہ شہید ہوا تھا ۔ سردار فقیر 2023 میں چمن سب جیل توڑ کر فرار ہوا تھا ۔ فقیر کی لاش کوئٹہ منتقل کر دی گئی ہے۔
قلعہ عبداللہ : ژڑہ بند کے قریب پولیس مقابلے میں فقیر شمکزئی جان بحق ہوگئے۔




