دہشت گرد 11، 11 سال کے بچے لائے تھے: سرفراز بگٹی

کوئٹہ(اولس نیوز ) وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے میں حالیہ سیکیورٹی اقدامات کا مقصد شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا اور ممکنہ بڑے دہشتگرد حملوں کو روکنا تھا۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے شہداء اور غازیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور بتایا کہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر بروقت کارروائیاں کی گئیں۔

وزیراعلیٰ کے مطابق سیکیورٹی اداروں کو صوبے میں بڑے پیمانے پر حملوں کی منصوبہ بندی سے متعلق اطلاعات موصول ہوئی تھیں، جس کے بعد مختلف علاقوں میں آپریشنز شروع کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ شعبان اور پنجگور میں کارروائیوں کے دوران 40 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ گزشتہ 40 گھنٹوں میں مجموعی طور پر 145 مبینہ دہشتگرد مارے گئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک سال کے دوران 1500 سے زائد دہشتگردوں کے خلاف کامیاب کارروائیاں کی گئیں۔

سرفراز بگٹی نے گوادر میں ایک بلوچ خاندان پر حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں خواتین اور بچے جاں بحق ہوئے، جسے انہوں نے قابلِ مذمت قرار دیا۔ ان کے مطابق تشدد کے واقعات سے عام شہری متاثر ہو رہے ہیں اور معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت کا مؤقف ہے کہ ریاستی کارروائیاں آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر کی جاتی ہیں اور عام شہریوں کو نقصان پہنچانے سے گریز کیا جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشتگرد اکثر شہری آبادی میں چھپ کر کارروائیاں کرتے ہیں، جس سے چیلنجز بڑھ جاتے ہیں، تاہم سیکیورٹی فورسز احتیاط کے ساتھ آپریشنز مکمل کرتی ہیں۔

انہوں نے کالعدم تنظیموں کے حوالے سے کہا کہ حکومت انہیں سیاسی فریق نہیں سمجھتی، بلکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ایسے گروہوں کے خلاف کارروائی جاری رکھیں گے جو تشدد کے ذریعے اپنا نظریہ مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ وزیراعلیٰ کے مطابق ترقیاتی منصوبوں اور سیکیورٹی اقدامات کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جنہیں ناکام بنایا جا رہا ہے۔

سرفراز بگٹی نے سرحدی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بعض مبینہ عناصر ہمسایہ ملک کی سرزمین استعمال کر کے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق دہشتگردی میں ملوث افراد کی کوئی قوم یا قبیلہ نہیں ہوتا اور ایسے اقدامات پورے معاشرے کے لیے نقصان دہ ہیں۔

آخر میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت کا ہدف بلوچستان میں امن و استحکام کا قیام ہے اور اس مقصد کے لیے سیکیورٹی فورسز، سول انتظامیہ اور عوام کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ صوبے کو پائیدار امن کی طرف لے جانے کے لیے تمام آئینی اور قانونی ذرائع بروئے کار لائے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں