بلوچستان کے مختلف علاقوں جن میں کوئٹہ، گوادر، پنجگور، مستونگ، نوشکی، دالبندین، خاران، تمپ اور پسنی شامل ہیں، وہاں دہشت گردوں کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کو سیکیورٹی فورسز نے مؤثر کارروائی کے ذریعے ناکام بنا دیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ان آپریشنز کے دوران تین خودکش حملہ آوروں سمیت مجموعی طور پر 92 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ گزشتہ 48 گھنٹوں میں ہلاک دہشت گردوں کی تعداد 133 ہو گئی ہے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں نے مختلف شہروں میں منظم انداز میں حملوں کی کوشش کی، تاہم سیکیورٹی اداروں نے بروقت ردعمل دیتے ہوئے ان کے منصوبے خاک میں ملا دیے۔ کلیئرنس آپریشن کے دوران 15 سیکیورٹی اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا، جبکہ دہشت گردی کے واقعات میں 18 عام شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
فوجی ترجمان کے مطابق دہشت گرد کارروائیوں کے دوران حملہ آور بیرون ملک موجود اپنے سہولت کاروں سے مسلسل رابطے میں تھے اور ان کارروائیوں کی ہدایات پاکستان سے باہر بیٹھے سرغناؤں کی جانب سے دی جا رہی تھیں۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ ان حملوں کے منصوبہ سازوں، معاونین اور سہولت کاروں کو قانون کے شکنجے میں لایا جائے گا اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
گوادر کی لیبر کالونی میں ہونے والے حملے کے زخمی افراد نے بتایا کہ دہشت گردوں نے بے گناہ اور نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ حملہ نہایت ظالمانہ تھا اور خواتین و بچوں کو بھی نہیں بخشا گیا۔ زخمیوں کے مطابق حملہ آوروں کو قرآن اور بچوں کا واسطہ دیا گیا، مگر انہوں نے کسی قسم کی رعایت نہیں کی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے وزیرداخلہ محسن نقوی کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے، تاہم مزید تفصیلات بعد میں سامنے آئیں گی۔ انہوں نے گھروں میں گھس کر بلوچ خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے کے واقعات کو انتہائی افسوسناک قرار دیا۔
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ان دہشت گرد حملوں کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے اور اس میں ملوث عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کو ایک ایک کر کے نشانہ بنایا ہے اور ان کارروائیوں کے اصل منصوبہ ساز بھی حکام کی نظر میں ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے رات گئے شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور سیکیورٹی پر تعینات اہلکاروں سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ فورسز کے جوانوں کے حوصلے بلند ہیں اور وہ دہشت گردی کے خلاف ہر طرح سے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن کے عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
دوسری جانب سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے بلوچستان میں پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعات کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔




