پشین کربلا واقعہ: ثالثین کی موجودگی میں سرنڈر کے باوجود فائرنگ، حکومتی مؤقف متنازع، آڈیو لیک منظرِ عام پر

پشین: کربلا میں سی ٹی ڈی اور اشتہاری ملزمان کے درمیان مبینہ مقابلہ، ثالثین کی موجودگی میں ہتھیار ڈالنے کے باوجود فائرنگ پر سنگین سوالات

بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے کربلا میں سی ٹی ڈی اور اشتہاری ملزمان کے درمیان ہونے والے مبینہ مقابلے نے کئی سنگین سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ثالثین کی کوششوں سے ملزمان نے ہتھیار ڈال دیے تھے، تاہم اس کے باوجود سرکاری اہلکاروں کی جانب سے مسلسل فائرنگ کی گئی۔

واقعے کے بعد ایک آڈیو لیک منظرِ عام پر آئی ہے جس میں سرکاری اہلکاروں اور ثالثین کے درمیان گفتگو سنی جا سکتی ہے۔ آڈیو میں نہ صرف ثالثین کی ثالثی کو نظرانداز کیے جانے کے شواہد ملتے ہیں بلکہ انہیں بھی دہشتگرد قرار دینے کی بات سامنے آتی ہے، جو قانون اور انسانی حقوق کے حوالے سے تشویشناک ہے۔

واقعے نے حکومتی کارروائی کی شفافیت، قانون کے دائرہ کار اور سیکیورٹی اداروں کے اختیارات کے استعمال پر شدید سوالات اٹھا دیے ہیں۔ عوامی و سماجی حلقوں کی جانب سے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں