بلوچستان میں سرکاری نوکریوں کی خرید و فروخت کا ہمیشہ کے لیےخاتمہ کیا جائےگاوزیراعلیٰ بلوچستان

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ محکمہ خزانہ میں سب اکاؤنٹنٹ کی آسامیوں پر مکمل طور پر پیپر لیس، ڈیجیٹل اور آن لائن نظام کے تحت شفاف بھرتیوں کا عمل کامیابی سے مکمل کیا گیا، جس کے تحت ایک ہی دن میں آن لائن ٹیسٹ، انٹرویوز، نتائج کا اعلان اور تقرر ناموں کی تقسیم عمل میں لائی گئی۔ یہ اقدام بلوچستان میں میرٹ، شفافیت اور ادارہ جاتی اصلاحات کی جانب ایک تاریخی اور فیصلہ کن پیش رفت ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز محکمہ خزانہ میں سب اکاؤنٹنٹ کی آسامیوں پر آن لائن ٹیسٹ کے ذریعے کامیاب ہونے والے امیدواروں میں تقرر نامے تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ انہوں نے صوبائی اسمبلی میں اپنے پہلے خطاب کے دوران قوم سے یہ واضح وعدہ کیا تھا کہ بلوچستان میں سرکاری نوکریوں کی خرید و فروخت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کیا جائے گا، اور آج کا دن اسی وعدے کی عملی تعبیر اور تسلسل کا ایک بڑا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب صوبے میں سفارش اور رشوت کی بنیاد پر نہیں بلکہ صرف اور صرف میرٹ پر نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ایک وقت تھا جب بلوچستان کے عوام میں یہ امید تقریباً دم توڑ چکی تھی کہ یہاں کبھی میرٹ نافذ ہو سکے گا،

لیکن آج ہم نے سب کے سامنے عملی طور پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر نیت مضبوط اور نظام شفاف ہو تو میرٹ کو یقینی بنایا جا سکتا ہے ا نہوں نے کہا کہ آج بلوچستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا منظر دیکھنے میں آیا ہے کہ ایک عام مزدور کا بیٹا، ایک استاد کا بیٹا اور ایک وزیر کا بیٹا ایک ہی امتحانی نظام، ایک جیسی نشستوں اور یکساں ماحول میں امتحان دے رہے ہیں اور کامیابی کا واحد معیار میرٹ ہے۔

یہ حقیقی مساوات اور انصاف پر مبنی نظام کی واضح مثال ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت آئندہ دنوں میں ڈویژنل، ضلعی اور تحصیل سطح پر بھی اسی طرز کا جدید اور شفاف ڈیجیٹل میکانزم متعارف کرائے گی تاکہ میرٹ ہر سطح پر نظر آئے اور عوام کا اعتماد مستقل بنیادوں پر بحال ہو انہوں نے کہا کہ اس وقت کمیشن میں ہزاروں آسامیاں طویل عرصے سے زیر التواء ہیں، جس کے باعث صوبائی ادارے شدید افرادی وسائل کی کمی کا شکار ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں